ایک پٹواری سب پر بھاری، 9 شہری مواضعات کا چارج کاشف ظفر کے پاس

ملتان(جنرل رپورٹر) لودھراں کے شہری حلقوں کے کم از کم 9 اہم مواضعات تاحال پٹواری کاشف ظفر کے پاس ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ اس کی مبینہ سرپرستی کرنیوالی اسسٹنٹ کمشنر کی تبدیلی کے باوجود متعلقہ پٹواری کو نہ ہٹایا گیا اور نہ ہی چارج تبدیل کیا گیا۔ شہری و قانونی حلقوں کا کہنا ہے سابقہ اسسٹنٹ کمشنر لودھراں ارم شہزادی کی مبینہ سرپرستی انتظامی تبدیلی محض کاغذی ثابت ہوئی جبکہ زمینی حقائق میں کوئی فرق نہیں آیا۔ موضع اربن (سابقہ نالہ شیخواہ)، سٹیڈیم روڈ کا علاقہ، بھٹہ روڈ، ملک خمیسہ روڈ سے ملتان روڈ تک کا سرکاری رقبہ اور دیگر شہری مواضعات بدستور ایک ہی پٹواری کے کنٹرول میں ہیں، جہاں کمرشل اور قیمتی اراضی کے انتقالات، فردِ ملکیت کے اجرا اور آن لائن ریکارڈ اپ ڈیٹس کیا جارہا ہے شہری جمشید کی جانب سے دی گئی درخواست میں الزامات کے مطابق کھیوٹ نمبر 348 اور 349 کے درمیان’’ریکارڈ کا کھیل‘‘کھیلتے ہوئے سرکاری اراضی کو نجی ملکیت ظاہر کرنے، کمرشل اراضی کو سکنی اور سکنی کو زرعی ظاہر کرنے جیسے مبینہ اقدامات سے نہ صرف شہری متاثر ہوئے بلکہ سرکاری خزانے کو بھی نقصان پہنچا۔شہریوں کا دعویٰ ہے کہ سابقہ تاریخوں کی فردِ ملکیت جاری کرنے اور پرانے حکمِ امتناعی کو ریکارڈ میں برقرار رکھنے جیسے معاملات کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔ پٹواری کاشف ظفر نے مبینہ طور پر شہر میں ایک خفیہ مکان قائم کر رکھا ہے جہاں اس کے منشی قاسم (مبینہ طور پر قریبی رشتہ دار)، ظفر جھنج، زوار، عمران اور زاہد ریکارڈ کے معاملات دیکھتے ہیں۔ الزام ہے کہ یہی نیٹ ورک جعلی فردِ ملکیت، رجسٹریوں اور آن لائن ریکارڈ اپ ڈیٹس کے معاملات میں سرگرم ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کی تبدیلی کے بعد توقع تھی کہ متنازعہ مواضعات کا چارج فوری طور پر تبدیل کیا جائے گا اور ریکارڈ کو تحویل میں لے کر آڈٹ کرایا جائے گا، مگر تاحال ایسا نہ ہونا سوالیہ نشان ہے۔سماجی، سیاسی اور کاروباری حلقوں نے ڈپٹی کمشنر لودھراں سے مطالبہ کیا ہے کہ 9شہری مواضعات کے لینڈ ریکارڈ کا فوری آڈٹ کرایا جائے۔تمام حالیہ انتقالات اور رجسٹریوں کی چھان بین کی جائے پٹواری کاشف ظفر کو تحقیقات مکمل ہونے تک چارج سے الگ کیا جائے مبینہ سہولت کار منشیوں کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں موقف لینے پر پٹواری کاشف ظفر نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اب معاملہ محض تردید سے آگے نکل چکا ہے اور اصل حقائق صرف غیر جانبدارانہ انکوائری اور مکمل آڈٹ سے ہی سامنے آئیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں