ایک من منشیات کا ملزم پولیس کا “دلبر” ایس ایچ او گرفتاری سے محفوظ، پیٹی بھائی سہولت کار

بہاولپور(کرائم سیل) بہاولپور میں منشیات کے ایک من سے زائد برآمدگی کے سنگین مقدمے میں سابق ایس ایچ او احمد پور شرقیہ دلبر حسین کی عبوری ضمانت عدالت سے خارج ہونے کے باوجود بہاولپور پولیس ملزم
کو گرفتار نہ کر سکی حالانکہ ڈی پی او بہاولپور نے گرفتاری کے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے ڈی ایس پی لیگل عبدالرؤف کو کیس کی نگرانی کے لیے بھی تعینات کر رکھا تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈی پی او آفس کی ایک مبینہ مخصوص لابی کی سہولت کاری کے باعث ملزم گرفتاری سے بچ نکلا اور فرار ہوگیا ،جس نے پولیس نظام اور اعلیٰ حکام کے احکامات پر بھی کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج ظہیر احمد کی عدالت میں دلبر حسین عبوری ضمانت کے لیے پیش ہوا، تاہم عدالت نے ایک من سے زائد منشیات کے مقدمے میں اس کی عبوری ضمانت خارج کر دی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس موقع پر پولیس کے لیے ملزم کو فوری گرفتار کرنا ممکن تھا، مگر مبینہ طور پر مخصوص لابی کی سہولت کاری کے باعث وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ڈی پی او بہاولپور کو مطمئن کرنے کے لیے ڈی ایس پی لیگل عبدالرؤف کی قیادت میں ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش اور اس کے فرار ہونے کا تاثر دینے کا ڈرامہ بھی رچایا گیا۔یاد رہے کہ 24 جنوری کو سی سی ڈی بہاولپور نے ایک کارروائی کے دوران رضاکار سراج نامی شخص سے دو کلو آئس برآمد کی تھی، جس کا مقدمہ تھانہ مسافر خانہ میں درج کیا گیا۔ بعد ازاں اس کی نشاندہی پر تھانہ مسافر خانہ پولیس نے دلبر حسین کے کرائے کے مکان سے تقریباً 43 کلو چرس برآمد کر کے مقدمہ نمبر 25/26 درج کیا۔ اس بھاری مقدار میں منشیات کی برآمدگی نے پولیس کے اندر بھی کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ذرائع کے مطابق مقدمہ درج ہونے سے لے کر جمعرات کو عبوری ضمانت کی پیشی تک ڈی پی او آفس کی ایک مبینہ کرپٹ لابی مسلسل دلبر حسین کی سہولت کاری کرتی رہی۔ پولیس حلقوں میں یہ بھی چہ مگوئیاں ہیں کہ مبینہ طور پر بعض افسران پیسے لے کر بغیر میرٹ ایس ایچ او تعینات کروانے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دلبر حسین نے مبینہ طور پر پانچ لاکھ روپے دے کر ایس ایچ او کی تعیناتی حاصل کی تھی، جس کا اس نے مقدمہ درج ہونے کے بعد مبینہ طور پر ڈی پی او بہاولپور کو بھی بتایا تھا۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے انکوائری بھی شروع کی گئی تھی، تاہم دلبر حسین کے انکوائری میں شامل نہ ہونے کے باعث کئی معاملات دبے ہوئے ہیں۔ پولیس کے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ عرصہ دراز سے موجود یہ مبینہ کرپٹ لابی نہیں چاہتی کہ یہ معاملات موجودہ ڈی پی او کے سامنے آئیں، اسی لیے ملزم کو بچانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب دلبر حسین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ ایڈیشنل سیشن جج ظہیر احمد کی عدالت میں پیشی کے لیے آئے تھے اور ان کے وکیل ہائی کورٹ تھے۔ ان کے مطابق ابھی عدالت میں بحث التواء میں تھی کہ ڈی ایس پی لیگل عبدالرؤف 10 سے 15 پرائیویٹ افراد کے ہمراہ آئے اور انہیں غیر قانونی طور پر گرفتار کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے وکلا کی مداخلت پر انہیں گرفتار نہ کیا جا سکا۔اس اہم معاملے پر مؤقف لینے کے لیے پی آر او راؤ کاشف سے ان کے موبائل نمبر پر رابطہ کیا گیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ ڈی ایس پی لیگل عبدالرؤف ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے گئے تھے مگر اسے گرفتار کیوں نہ کیا جا سکا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ ڈی ایس پی لیگل سے مؤقف لے کر آگاہ کریں گے، تاہم خبر نیوز روم بھجوانے تک ان کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ذرائع کے مطابق اس صورتحال نے یہ تاثر پیدا کر دیا ہے کہ ڈی پی او آفس کی مبینہ کرپٹ لابی اس حساس کیس کی مکمل تفصیلات میڈیا اور عوام تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ شہری اور سماجی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں