

ملتان (سٹاف رپورٹر) پرو وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات ڈاکٹر مشاہد انور کو جعلی تجرباتی سرٹیفکیٹ دے کر ملازمت حاصل کرنے کا الزام ثابت ہونے پر ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا اور انہیں سات دن کے اندر اندر یونیورسٹی کے اندر واقع سرکاری رہائش گاہ بھی خالی کرنے کا کہہ دیا گیا جس پر انہوں نے سات دن میں یونیورسٹی کی سرکاری رہائش گاہ خالی کر دی۔ ان کے تجربے کے سرٹیفکیٹ کی جعل سازی کے حوالے سے گورنر پنجاب کو خط لکھ کیا گیا تھا جس پر گورنر پنجاب نے یونیورسٹی سنڈیکیٹ اور وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور کو فوری طور پر انکوائری کرنے کا حکم دیا تھا۔ انکوائری رپورٹ میں ڈاکٹر مشاہد انور قصور وار ثابت ہوئے جس پر سنڈیکیٹ کے اجلاس میں انہیں پرو وائس چانسلر کے عہدے سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے کی روشنی میں ڈاکٹر مشاہد انور کی برخاستگی کے احکامات جاری کر دیئے گئے اور انہیں سات دن کے اندر اندر سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کا حکم دیا جبکہ ان کے خلاف کرپشن کے الزامات بھی ثابت ہوئے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ انہوں نے یونیورسٹی کے فنڈز سے اپنے گھر میں نو لاکھ روپے مالیت کا سولر سسٹم لگوایا ہے۔ کرپشن ثابت ہونے پر ڈاکٹر مشاہد انور کو یونیورسٹی کے فنڈز میں 8 لاکھ روپیہ واپس جمع کروانا پڑا۔ انتہائی توجہ طلب امر یہ ہے کہ ایمرسن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان کے خلاف انتہائی قابل اعتراض قسم کی فحش ویڈیو کے ذریعے اپنے ہی باورچی کے ساتھ مسلسل بد فعلی کا ارتکاب کرنے کا الزام ثابت ہو چکا ہے مگر ہائر ایجوکیشن کمیشن ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کی مکمل پشت پناہی اور سہولت کاری کر رہا ہے اور ملتان کے تھانہ بی زیڈ یو میں ڈاکٹر رمضان کے خلاف بد فعلی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست گزشتہ کئی دنوں سے زیرالتوا ہے اور حیران کن امر یہ ہے ابھی تک ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، ہائر ایجوکیشن کمیشن پنجاب نے ان کی طرف سے بھیجے گئے استعفے کی منظوری کے حوالے سے بھی چپ سادھ رکھی ہے۔ ایک ہی صوبے میں دو قسم کے قوانین اور دو قسم کی سہولت کاریاں بہت سے سوالات پیدا کر رہی ہیں۔