ایک سو 25 کروڑ سمگلڈ مال کئی اضلاع ،صوبوں سے گزار کر پنجاب کیسے پہنچا،حکومتی رٹ چیلنج

ملتان( سٹاف رپورٹر)48 گھنٹے میں ملتان ، لاہور اور سرگودھا میں تفتیشی اداروں کی طرف سے دی جانے والی معلومات پر تقریباً سوا ارب روپے مالیت کے سمگل شدہ خشک دودھ، غیر ملکی سگریٹ ، گٹکا، رتنا، حقہ پیپرز اور دیگر سکون آور سامان کی برآمدگی نے جہاں بہت بڑے سوالات کھڑے کردیئے ہیں کہ اربوں کھربوں کا مال کئی اضلاع دو دو صوبوں سے گزر کر پنجاب تک پہنچ کیسے جاتا ہے، وہیں پر حکومتی رٹ اور متعلقہ اداروں کی ناقص کارکردگی پر بھی بہت سارے شکوک وشبہات پید کردیئے ہیں ۔لاہور سے تقریباً68 کروڑ ،ملتان سے 45 کروڑ اور سرگودھا سے 12 کروڑ سے زائد کا مال قبضہ میں لیا گیا ۔مگر ذرائع کے مطابق ملتان میں کسٹم حکام کی طرف سے سمگل شدہ خشک دودھ کے 2 ٹرک واپس بھی کردیئے گئے ہیں مگر یہ کن شرائط پر واپس ہوئے اس بارے معلومات نہیں مل سکیں ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملتان سے 25 ٹرک سمگل شدہ مال پکڑا گیا مگر کسٹم کے ریکارڈ کے مطابق دس ٹرک مال ضبط شدہ ظاہر کیا گیا ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سگریٹ و دیگر آئٹمز کا ریکارڈ نہیں بنتا کیونکہ یہ نیلام نہیں ہوتا بلکہ جلا دیا جاتا ہے اور پھر کسٹم حکام پر مال تبدیل کرنے اور سندھ میں تیار کئے گئے مختلف غیر ملکی برانڈز کے جعلی سگریٹ رکھوا کر اصل نکال لئے جاتے ہیں ۔بعض اوقات خالی ڈبیاں بھی جلا کر کھاتے پورے کرلئے جاتے ہیں، معلوم ہوا ہے کہ لاہور میں جو مال پکڑا گیا اس میں خشک دودھ اور مختلف فوڈز آئٹمز میں استعمال ہونے والے فلیور بھی شامل تھے ۔ پاکستان میں خشک دود ھ کی مقدار میں بیکری آئٹم کیلئے استعمال ہوتا ہے اور اس کا بہت کم حصہ امپورٹ ہوتا ہے جبکہ 60 سے 70 فیصد سمگل شدہ ہی وہاں سے پاکستان لایا جارہا ہے اس طرح صرف خشک دودھ کی سمگلنگ میں سے پاکستان کو کھربوں روپے کا زرمبادلہ میں نقصان ہوجاتا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ لاہور میں جو 68 کروڑ کا مال پکڑا گیا ہے اس میں سے بھی کم از کم 30 کروڑ کا مال غائب ہے اور چونکہ سمگل شدہ مال کا کوئی اندراج نہیں ہوتا اس لئے یہ سارے کا سارا حکومت کے کھاتے میں نہیں جاتا بلکہ اداروں کے افسران ہی میں تقسیم ہوجاتا ہے روزنامہ قوم کو ایک ریٹائرڈ کسٹم آفیسر نے بتایا کہ پنجاب میں اگر سوا ارب کا مال محض دو دن میں پکڑا گیا ہے تو پھر پنجاب میں اس طرح کا کسٹم ڈیوٹی کے بغیر لایا جانے والا مال لازمی طور پر کھربوں میں ہوگا اور یہی ناسور پاکستان کو کھا رہا ہے ۔ ہمارے بارڈر کسی میں بھی محفوظ نہیں رہے ۔ اگر خشکی کے راستے مال آرہا ہے تو سمندری لانچیں بھی سمگل شدہ لارہی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں