ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی 1 دن بعد پرو وائس چانسلر کا ٹینیور پورا کرنے والی غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کمشنر ملتان کی جانب سے جاری کیے گئے شو کاز نوٹسز کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں گزشتہ روز ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے جناب کمشنر ملتان عامر کریم خاں صاحب کے بارے میں نا قابل اشاعت الفاظ ادا کیے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے بھتیجے عبد الحئی کے نام سے ملتان بورڈ کے نام سے ڈیتھ کوٹے پر ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی ہوئی ہے جس کے بھی تمام تر اخراجات کا بوجھ یونیورسٹی پر ڈالا گیا مگر کمشنر ملتان نے قانون کے مطابق معاملہ حل کرنے کی ہدایت دی۔ اب چونکہ اس بارے میں ڈیتھ کوٹہ ختم کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ خواتین یونیورسٹی ملتان کے 80 ملازمین کے ایڈوانسڈ انکریمنٹس کی غیر قانونی کٹوتی کے معاملے میں بھی کمشنر ملتان نے وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو 2 بار بذریعہ سیکرٹری بورڈ لیٹر لکھا تھا کہ آپ عارضی وائس چانسلر ہونے کی بنا پر کسی بھی قسم کے لانگ ٹرم اور بڑے مالیاتی فیصلے کی مجاز نہیں اور آپ صرف روزانہ کے امور کی مجاز ہیں مگر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اس کو بھی اپنی انا کا مسئلہ بنا کر میڈیا کو بیان جاری کروایا کہ کمشنر کا کردار قانونی طور پر یونیورسٹی کے معاملات میں مداخلت کا نہیں ہے۔ مزید یونیورسٹی کے ریزیڈنٹ آڈیٹر کے حوالے سے بھی بیان جاری کیا گیا کہ تمام ترقیاں اور مالیاتی فیصلے رولز کے مطابق ہوئی ہیں۔ یونیورسٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق شروع میں ریزیڈنٹ آڈیٹر محمد علی مرتضیٰ نے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے بہت سے غیر قانونی بلوں پر اعتراضات کیے مگر بعد ازاں اپنا من پسند آفس اور من پسند عملہ و سٹاف اور کچھ مراعات مل جانے کے بعد تمام تر اعتراضات دور کر دیے گئے۔ اور ان دور کیے گئے اعتراضات میں وہ اعتراضات بھی شامل تھے جو کہ سابقہ ریزیڈنٹ آڈیٹر نے کیے تھے جن کو نہ ماننے کی بناء پر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اس وقت کی رجسٹرار سے فنانس ڈیپارٹمنٹ کو خط لکھ کر اس ریزیڈنٹ آڈیٹر کی خدمات کی واپسی کا کہا۔ بعد ازاں اس رجسٹرار سے بھی تمام تر غیر قانونی کام کروا کر ان کو بھی کھڈے لائن لگا دیا۔ حالیہ رجسٹرار کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ رجسٹرار بھی یہی گلہ شکوہ کرتی نظر آتی ہیں کہ ان سے صرف دستخط کروائے جاتے ہیں۔ ان کو کسی بھی معاملے کا کوئی علم نہیں ہوتا۔







