ڈیرہ غازی خان علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں ایکسپائر ادویات کی فراہمی کا انکشاف محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ صحت جیسے حساس شعبے میں مجرمانہ غفلت کی واضح مثال ہے۔ تصاویر میں ادویات کی پیکنگ پر درج میعاد ختم ہونے کی تاریخ کا گزر جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام عملاً مفلوج ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن مریضوں کی زندگی پہلے ہی بیماری کے ہاتھوں داؤ پر لگی ہو، انہیں ایسی ادویات دینا کس قانون، کس اخلاق اور کس انسانیت کے تحت جائز سمجھا گیا؟
حکومت پنجاب ہر سال اس ہسپتال کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کرتی ہے تاکہ عوام کو معیاری اور محفوظ علاج میسر آ سکے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ شہریوں کے مطابق انتظامیہ ایم ایس آفس تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جہاں اسٹور مینجمنٹ، ادویات کی بروقت جانچ اور ایکسپائر اسٹاک کی تلفی جیسے بنیادی امور پر توجہ نہیں دی جاتی۔ یہ غفلت محض کاغذی کارروائیوں اور فائلوں تک محدود نگرانی کا نتیجہ ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست مریض اور ان کے لواحقین بھگتتے ہیں۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے روزانہ وزٹس کے دعوے کے باوجود ایسی سنگین بے ضابطگیاں سامنے آ رہی ہیں۔ اگر واقعی مؤثر نگرانی ہوتی تو ایکسپائر ادویات مریضوں تک ہرگز نہ پہنچتیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف ہسپتال انتظامیہ بلکہ مقامی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کیا یہ وزٹس محض تصویری بیانات اور رسمی رپورٹس تک محدود ہیں؟
سرکاری ہسپتالوں میں پہلے ہی سہولیات کی کمی، ادویات کی قلت اور عملے کا دباؤ ایک تلخ حقیقت ہے۔ ایسے میں ایکسپائر ادویات دینا مریضوں کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ صحت کا شعبہ کسی تجربہ گاہ کی مانند نہیں جہاں غفلت کی قیمت جان سے کم ہو۔ یہاں معمولی سی کوتاہی بھی انسانی زندگی چھین سکتی ہے۔
عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں کا وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ بجا ہے۔ اس معاملے کی شفاف انکوائری، ذمہ دار افسران اور عملے کے خلاف سخت کارروائی، اور ادویات کے اسٹاک کی جدید مانیٹرنگ ناگزیر ہے۔ بارکوڈنگ، ڈیجیٹل اسٹاک آڈٹ اور آزاد انسپکشن جیسے اقدامات کے بغیر یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔
آخرکار حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صحت پر سمجھوتہ ریاستی ناکامی کے مترادف ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے عوام محفوظ اور معیاری علاج کے حق دار ہیں—یہ حق کسی بھی صورت پامال نہیں ہونا چاہیے۔
امریکی توسیع پسندی، عالمی امن کیلئے خطرہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ حرکات ایک بار پھر اس حقیقت کو عیاں کر رہی ہیں کہ امریکا خود کو دنیا کا حتمی حاکم سمجھنے کے خمار سے باہر نہیں نکل سکا۔ ٹرمپ کا سوشل میڈیا پر خود کو وینزویلا کا ’’عبوری صدر‘‘ قرار دینا محض ایک اشتعال انگیز بیان نہیں بلکہ عالمی قوانین، ریاستی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا وینزویلا میں فوجی مداخلت کے بعد صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کر چکا ہے، جسے لاطینی امریکا سمیت دنیا بھر میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔
امریکا کی یہ روش نئی نہیں۔ طاقت کے زور پر حکومتیں بدلنا، عبوری نظام مسلط کرنا اور ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر قبضہ کرنا امریکی خارجہ پالیسی کا پرانا ہتھکنڈا ہے۔ وینزویلا کے بعد اب ایران کو نشانے پر رکھنا اسی توسیع پسندانہ سوچ کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے اعداد و شمار تشویش ناک ہیں، تاہم امریکا کا ان مظاہروں کو بنیاد بنا کر مداخلت کے اشارے دینا حالات کو مزید خطرناک بنا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے فوجی حملوں، سائبر وار اور سخت پابندیوں جیسے آپشنز پر غور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن ایک بار پھر طاقت کی زبان بولنے پر آمادہ ہے۔ یہ وہی امریکا ہے جو ایک طرف انسانی حقوق کا علمبردار بننے کا دعویٰ کرتا ہے اور دوسری طرف ہزاروں میل دور ممالک میں آگ اور خون کا کھیل کھیلتا ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل اور امریکی عزائم پر تنقید اس بڑھتی کشیدگی کو مزید ہوا دے رہی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ فرعونیت اور طاقت کا غرور ہمیشہ زوال پر منتج ہوا ہے۔ عالمی برادری کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ امریکی توسیع پسندانہ عزائم کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ اگر دنیا نے خاموشی اختیار کیے رکھی تو آج وینزویلا اور ایران، کل کوئی اور ملک اس جارحیت کی زد میں ہوگا۔ امن طاقت سے نہیں، انصاف، خودمختاری کے احترام اور مکالمے سے قائم ہوتا ہے۔







