ایڈزمعاملہ:انتظامیہ کااعتراف،نشترمیں خوف وہراس، ڈاکٹرز،عملےکےایچ آئی وی ٹیسٹ،تحقیقات شروع

ایڈزمعاملہ:انتظامیہ کااعتراف،نشترمیں خوف وہراس، ڈاکٹرز،عملےکےایچ آئی وی ٹیسٹ،تحقیقات شروع

ملتان(سٹاف رپورٹر)کئی روز تک چھپائے رکھنے اور تردید کرنے کے بعد نشتر انتظامیہ نے تسلیم کر لیا ہے کہ ایس او پی اور پروٹوکول کا لحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے ایڈز کے مریض کا 26 اکتوبر کو ڈائیلسز ایڈز وارڈز کیلئے مختص ڈائیلسز مشین پر کرنے کے بجائے دوسری مشین پر کیا گیا جس سے 30 کے قریب مریضوں میں ایڈز اور بعض کے خون کے نمونوں میں تصدیق بھی ہو گئی مگر نشتر انتظامیہ ان مریضوں کے نام ظاہر نہیں کر رہی۔ دوسری طرف حکومت پنجاب نے اعلیٰ سطحی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کر دی ہے جس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شہزاد انور اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ایڈز کنٹرول پروگرام سمیت چار ممبران اس کمیٹی میں شامل ہوں گے۔نشتر ہسپتال میں اس صورتحال پرشدید خوف و ہراس کی فضا ہے اور گزشتہ دو روز میں 100 سے زائد ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف نے نجی لیبارٹریوں میں اپنے خون کے نمونے ٹیسٹ کرانے کیلئے بھجوا دیئے ہیں کیونکہ اس واقعے کو 15 دن سے زائد گزر چکے ہیں اور ایڈز کے وائرس کی تصدیق دو ہفتے میں ہو جاتی ہےدوسری جانب نشتر ہسپتال انتظامیہ نے تصدیق کی ہےکہ ڈائیلسز یونٹ میں ایک مریض ایڈز وائرس پھیلانےکی وجہ بنا۔ترجمان نشتر ہسپتال کے مطابق ڈائیلسزیونٹ میں 240 مریض رجسٹرڈ ہیں اور ایڈز سے متاثرہ شخص 240 مریضوں میں سے ایک تھا۔ترجمان نے بتایا کہ اس لیے اس مریض کا الگ سے رکھی ڈائیلسز مشین پر علاج نہیں کیا، تمام رجسٹرڈ مریضوں کی سکریننگ ٹیسٹ دوبارہ کیے جارہے ہیں کیونکہ ایڈز سے متاثرہ مریض کا سراغ لگانا ضروری ہے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ ایڈز وائرس کتنے مریضوں میں منتقل ہوا انکوائری کمیٹی بنادی ہے، کمیٹی کی رپورٹ میں ہی ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی درست تعداد کا تعین ہو سکے گا۔ سیکرٹری صحت کے مطابق کمیٹی کو نشتر ہسپتال ملتان کے واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ اگلے 48 گھنٹوں میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں