ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر کی جامعات میں بی پی ایس اساتذہ کے لیے ترقی کے واضح راستے کی عدم موجودگی پر شدید بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے ٹنیور ٹریک سسٹم (TTS) پر تعینات اساتذہ کے لیے اسسٹنٹ پروفیسر سے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پھر پروفیسر تک ترقی کا باقاعدہ، قابلِ عمل اور مرحلہ وار طریقہ کار وضع کر رکھا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے اسے کھلا امتیاز قرار دیتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹی ٹی ایس پر ایک استاد پی ایچ ڈی ڈگری کے ساتھ براہِ راست اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر اپنا تدریسی کیریئر شروع کرتا ہے۔ یہ تقرری باقاعدہ اشتہار کے ذریعے، دیگر امیدواروں کے ساتھ سخت مقابلے اور خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر عمل میں آتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اکثر جامعات کی کوشش ہوتی ہے کہ بی پی ایس پر کام کرنے والے لیکچررز — جو چار سالہ تدریسی تجربے اور ایم فل کے ساتھ اسی جامعہ میں اسسٹنٹ پروفیسر بننے کے خواہاں ہوتے ہیں — کو بی پی ایس پر ترقی دینے کے بجائے ڈائریکٹ ٹی ٹی ایس پر اسسٹنٹ پروفیسر بھرتی کیا جائے، کیونکہ ٹی ٹی ایس کی تنخواہیں براہِ راست ایچ ای سی ادا کرتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹی ٹی ایس کی یہ اسامیاں بھی دراصل بی پی ایس اسٹرکچر کے اندر موجود مخصوص سیٹوں کے پول سے منسلک ہوتی ہیں، یعنی جامعات میں ان آسامیوں کی ایک محدود تعداد مختص ہوتی ہے جنہیں ٹنیور ٹریک کے تحت پُر کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ترقی کا راستہ واضح اور ٹائم سکیل پروموشن کے ساتھ منسلک ہے۔ پالیسی کے تحت ٹی ٹی ایس پر تعینات اسسٹنٹ پروفیسر عموماً چھ سال بعد ایسوسی ایٹ پروفیسر بن جاتا ہے اور مزید چار سال بعد فل پروفیسر کے عہدے تک پہنچ جاتا ہے، یوں اس کی سیٹ مرحلہ وار اپ گریڈ ہوتی رہتی ہے۔ دستاویزی شرائط کے مطابق ٹی ٹی ایس پر موجود اسسٹنٹ پروفیسر سے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے لیے پی ایچ ڈی ڈگری، کم از کم دو سالہ پوسٹ پی ایچ ڈی تدریسی یا تحقیقی تجربہ اور ایچ ای سی سے تسلیم شدہ جرائد میں کم از کم دو تحقیقی مقالات لازمی قرار دیے گئے ہیں، جبکہ ایسوسی ایٹ پروفیسر سے پروفیسر بننے کے لیے چھ سالہ پوسٹ پی ایچ ڈی تجربہ اور کم از کم چار تحقیقی مقالات کی شرط رکھی گئی ہے۔ اس منظم اور واضح پالیسی کے تحت ٹی ٹی ایس اساتذہ نسبتاً مختصر مدت میں پروفیسر کے منصب تک پہنچ سکتے ہیں۔ دوسری جانب بی پی ایس پر تعینات ہزاروں اساتذہ گزشتہ 20 سے 25 برس سے لیکچرار یا اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدوں پر ہی خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر ان کے لیے ترقی کا کوئی یکساں اور مرکزی پالیسی فریم ورک موجود نہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر دو افراد ایک ہی دن اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہوں، ایک ٹی ٹی ایس پر اور دوسرا بی پی ایس پر، تو ٹی ٹی ایس ٹیچر واضح پالیسی اور ٹائم سکیل پروموشن کے باعث تیزی سے ترقی کی منازل طے کر لیتا ہے، جبکہ بی پی ایس ٹیچر کی ترقی کا انحصار یونیورسٹی انتظامیہ کی صوابدید اور خالی اسامیوں کی دستیابی پر ہوتا ہے۔ اساتذہ تنظیم All Public Universities BPS Teachers Association (اپوبٹا) کے مطابق ملک بھر کے تقریباً 50 ہزار بی پی ایس اساتذہ اس صورتحال کے باعث شدید ذہنی دباؤ اور پیشہ ورانہ غیر یقینی کا شکار ہیں۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ امتیازی سلوک نہ صرف اساتذہ کے بنیادی حقوق کے منافی ہے بلکہ اعلیٰ تعلیم کے نظام میں عدم توازن بھی پیدا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر ایک مقدمے کے دوران عدالت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ بی پی ایس اساتذہ کی ترقی سے متعلق معاملہ ایچ ای سی کے اجلاس میں زیر غور لایا جائے۔ مگر ایچ ای سی کی جانب سے باقاعدہ مرکزی پالیسی مرتب کرنے کے بجائے جامعات کو ہدایت جاری کی کہ وہ اشتہار کے مطابق ترقیوں کا عمل مکمل کریں۔ اس اقدام کو بھی اساتذہ نے ناکافی اور مسئلے کا عارضی حل قرار دیا ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر بی پی ایس اساتذہ کے لیے شفاف، یکساں اور ٹائم سکیل پروموشن پالیسی مرتب نہ کی گئی تو جامعات میں پیشہ ورانہ مایوسی، قانونی چارہ جوئی اور انتظامی بحران میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اپوبٹا نے حکومت اور ایچ ای سی سے مطالبہ کیا ہے کہ بی پی ایس پروموشن پالیسی کو وقت کی اہم ترین ضرورت سمجھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر منظوری دی جائے تاکہ اساتذہ کے درمیان پایا جانے والا امتیاز ختم ہو اور اعلیٰ تعلیم کا نظام استحکام کی طرف بڑھ سکے۔






