ایچ ای سی کی نئی اشاعتی پالیسی پر اساتذہ تنظیم کے سنگین تحفظات

ملتان (سٹاف رپورٹر) آل پبلک یونیورسٹیز بی پی ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن (APUBTA) نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جرنلز اینڈ پبلیکیشنز پالیسی میں حالیہ ترامیم کو فوری طورپر معطل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ سے اساتذہ کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر سمیع الرحمٰن (یونیورسٹی آف ملاکنڈ، خیبر پختونخوا) اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر امتیاز احمد کی جانب سے 29 جنوری 2026 کو چیئرمین Higher Education Commission اسلام آباد کو ارسال کردہ مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 12 نومبر 2025 کو ترمیم شدہ 2024 کی جرنلز اینڈ پبلیکیشنز پالیسی کو مؤثر بنانے کے حوالے سے متعدد سنگین تحفظات سامنے آئے ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کی جامعات، بالخصوص University of Malakand، اس ترمیم شدہ پالیسی کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے قائم کردہ فورمز کے ذریعے بغیر خاطر خواہ مشاورت کے اپنانے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ اپوبٹا کے مطابق نئی پالیسی کے سیکشن 6 میں اشاعتوں سے متعلق شرائط کو غیر معمولی حد تک سخت کر دیا گیا ہےجس کے نتیجے میں وہ اساتذہ جو سابقہ معیار پر پورا اترتے تھے، ترقی یا اگلے سکیل میں ایک اسٹیپ ایلیویشن کے لیے نااہل قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے اس امر کو ’’موجودہ اساتذہ کے لیے غیر منصفانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کے قواعد کے تحت اہلیت رکھنے والے امیدواروں کو نئی اور سخت شرائط کے تحت جانچنا اصولِ انصاف کے منافی ہوگا۔ ڈاکٹر امتیاز احمد نے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ترمیم شدہ پالیسی کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور اسے ایک جامع اور نمائندہ فورم میں زیر بحث لا کر حتمی شکل دی جائے تاکہ حاضر سروس اساتذہ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ممکنہ قانونی چارہ جوئی اور انتظامی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ ایسوسی ایشن نے مراسلے کی نقول وائس چانسلر یونیورسٹی آف ملاکنڈ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھی ارسال کی ہیں۔ اساتذہ تنظیم نے واضح کیا ہے کہ اگر اساتذہ کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو ملک گیر سطح پر آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں