این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز کی رشوت کیس میں ضمانت مسترد، دو افسران کو ریلیف

اسلام آباد: ایف آئی اے سینٹرل کورٹ نے این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز کے خلاف رشوت کے مقدمے میں ان کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی، جب کہ کیس میں نامزد دو دیگر افسران کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
عدالت میں این سی سی آئی اے کے افسران پر مبینہ طور پر رشوت وصول کرنے کے الزامات سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر زاور اور ڈپٹی ڈائریکٹر عثمان کی ضمانتیں منظور کر لیں، تاہم ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز کو کوئی ریلیف نہ مل سکا۔
ڈپٹی ڈائریکٹرز کی جانب سے ایڈووکیٹ فاروق باجوہ عدالت میں پیش ہوئے، جب کہ چوہدری سرفراز کی نمائندگی ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے کی۔ دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے رشوت لینے کے ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق مقدمہ 90 لاکھ روپے کا بتایا گیا، جب کہ ریکوری چار کروڑ روپے سے زائد ظاہر کی گئی، اور تاحال کوئی متاثرہ شخص بھی سامنے نہیں آیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد چوہدری سرفراز کی ضمانت خارج کرنے کا فیصلہ سنایا۔ یاد رہے کہ ایف آئی اے نے این سی سی آئی اے کے مذکورہ افسران کے خلاف رشوت لینے کے الزامات پر مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں