نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس ملتان اور بہاولپور کیمپس کے پاس ایم فل پروگرامز میں داخلوں کاایچ ای سی کا این او سی سرے سے موجودہی نہیں
بزنس ایڈمنسٹریشن، کمپیوٹر سائنس، انگلش، اردو، اکنامکس، ایجوکیشن، سائیکالوجی، سوشیالوجی، میتھ، سٹیٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن ،پاکستان سٹڈیز، پولیٹیکل سائنس اور اسلامک سٹڈیز کی کلاسز
اجازت نامہ ہے،’’ قوم‘‘ کی معلومات درست نہیں، میرٹ پر طلبا و طالبات کے داخلے کر ر ہے :سربراہ ادارہ میاں جہانگیر،ایچ ای سی کی لسٹ سےنام دکھانےکےسوال پرجواب ندارد
ملتان ( میاں غفار سے ) جنوبی پنجاب کے دو بڑے شہروں ملتان اور بہاولپور میں لاہور کے نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریٹریشن اینڈ اکنامکس (این سی بی اے ای) کے ملتان اور بہاولپور کیمپس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے اجازت نہ ہونے کے باوجود ایم فل کے غیر قانونی داخلوں کی کوشش کا الزام سامنے آیا ہے جس کے مطابق نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس ملتان اور بہاولپور کیمپس کے پاس ایم فل پروگرامز میں داخلوں کا این او سی سرے سے موجود نہیں ہے اور ان دونوں شعبوں میں وہ طلبہ کو کسی بھی طور پر داخل ہی نہیں کر سکتے مگر یہ ادارہ غیر قانونی داخلے کر رہا ہے۔ تفصیل کے مطابق نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس ملتان اور بہاولپور کیمپسز عرصہ دراز سے جن پروگرامز میں ایم فل کروا رہے ہیں ان میں بزنس ایڈمنسٹریشن، کمپیوٹر سائنس، انگلش، اردو، اکنامکس، ایجوکیشن، سائیکالوجی، سوشیالوجی، میتھ، سٹیٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن ،پاکستان سٹڈیز، پولیٹیکل سائنس اور اسلامک سٹڈیز شامل ہیں۔ مگر حیران کن طور پر ایچ ای سی کی جاری کردہ تازہ ترین آفیشل لسٹ کے مطابق نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس ملتان اور بہاولپور کیمپسز کو کسی بھی ایم فل پروگرام میں طلبا و طالبات کے ایڈمیشن کرنے کی کسی بھی طرح اجازت نہیں ہے۔ اس تعلیمی دھاندلی کے حوالے سے جب روزنامہ قوم کی طرف سے اس تعلیمی ادارے کے سربراہ میاں جہانگیر سے موقف لینے کے لئے ان کے فون نمبر پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اجازت نامہ ہے اور روزنامہ قوم کی معلومات درست نہیں اور ان کا ادارہ اجازت نامے کے مطابق میرٹ پر طلبا و طالبات کے داخلے کر رہا ہے۔ اس موقف کے بعد انہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے 103 صفحات پر مشتمل لسٹ میں سے ان کے متعلقہ صفحہ بھیجا گیا تو اخبار پرنٹنگ کے لئے جانے تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔ سوال یہ کیا گیا کہ کیا اس طرح سے جعلی داخلے کرکے ادارہ طلبا و طالبات اور ان کے والدین سے دھوکہ دہی کا مرتکب نہیں ہو رہا؟ کیونکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی لسٹ کی روشنی میں وہ ان شعبوں میں ناجائز طور پر طلبا و طالبات کو داخلہ دے کر ان کا مستقبل تاریک کر رہے ہیں۔







