بزنس ڈگریزمیں بغیر منظوری داخلوںکےبعدنجی ادارےکا طلبا و طالبات سے کونسل کے تشہیری انتباہ کے باوجودکمپیوٹرڈگریزمیں بھی گھناؤنا کھیل
کمپیوٹر سائنس، آئی ٹی ، سوفٹ ویئر انجینئرنگ ، ڈیٹا سائنسز ، سائبر سکیورٹی ،آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور بی ایس پروگرامز میں بغیراجازت داخلے
ڈگریزکانیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظور ہونا لازمی ،طلباء و طالبات کو متنبہ بھی کیا جا چکا ،ڈائریکٹر میاں جہانگیر کاجواب سے گریز
ملتان ( سٹاف رپورٹر ) جنوبی پنجاب کے بڑے شہر ملتان میں متعدد نجی تعلیمی ادارے پروفیشنل ڈگریز میں بغیر ایکریڈیشن غیر قانونی داخلے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ایسا ہی ایک انکشاف لاہور کے ایک نجی تعلیمی ادارے نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس کے ملتان ، بہاولپور اور رحیم یار خان کیمپس میں بھی سامنے آ گیا ہے جن کی جانب سے جاری کئے گئے داخلوں کے اشتہار کے مطابق یہ ادارہ بھی بزنس سے متعلقہ ڈگریز کی نیشنل بزنس ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کی منظوری کے بغیر غیر قانونی داخلوں کے بعد کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگریز میں بھی نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کی منظوری کے بغیر غیر قانونی داخلے دھڑلے سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ این سی بی اے ای نامی یہ نجی ادارہ طلبا و طالبات سے کونسل کے تشہیری انتباہ کے باوجود گھناؤنا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے ۔جبکہ اس بارے تعلیمی اداروں کو متعدد بار انتباہ جاری کیا گیا کہ طلباء و طالبات نجی تعلیمی اداروں میں داخلے لینے سے پہلے معلومات لے لیں کہ کیا ان تعلیمی اداروں کے پاس بیچلر ڈگری پروگرامز میں کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگریوں کی نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل ( NCEAC) سے ایکریڈیشن یعنی اجازت نامہ موجود ہے بھی یا نہیں تاکہ کمپیوٹر کونسل سے ایکریڈیشن نہ ہونے کی صورت میں داخلہ نہ لینے سے ان کا مستقبل اور ان کے والدین کی رقوم محفوظ رہیں۔ روزنامہ قوم طلباءو طالبات کو آگاہی دے رہا ہے کہ وہ نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس کے سب کیمپس ملتان، بہاولپور اور رحیم یار خان سمیت تمام نجی و نیم سرکاری یونیورسٹیز کے مندرجہ بالا پروگرامز میں داخلے لینے سے پہلے مکمل معلومات حاصل کر لیں تعلیمی جعلسازی سے محفوظ رہ سکیں۔ یاد رہے کہ نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کے مطابق کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگریوں جن میں بی ایس کمپیوٹر سائنسز ، بی ایس سوفٹ ویئر انجینئرنگ ، بی ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی ، بی ایس انفارمیشن سسٹمز، بی ایس بایو انفارمیٹکس، بی ایس آرٹیفیشل انٹیلی جنس ، بی ایس ڈیٹا سائنسز ، بی ایس ساءبر سیکورٹی ، بی ایس ملٹی میڈیا اینڈ گیمنگ اور بی ایس کمپیوٹر انجینئرنگ شامل ہیں، کو نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظور ہونا لازمی ہیں۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے 16 فروری 2005 کو قومی سطح پر کمپیوٹر ڈگری پروگرامز کی منظوری کے لیے نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کو نوٹیفائی کیا تھا۔ جس کی بابت یونیورسٹیوں کو متعدد بار اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ وہ اپنے کمپیوٹر سے متعلقہ پروگرامز کو نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظور کروا لیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے جاری شدہ اعلامیہ کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کسی بھی یونیورسٹی کے غیر منظور شدہ کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگری پروگرامز کو تصدیق نہیں کرے گی۔ جس سے ایسی یونیورسٹیوں سے غیر منظور شدہ کمپیوٹر گریجویٹس سرکاری اور پرائیویٹ ملازمتوں، بیرون ممالک سے اعلیٰ تعلیم، بیرون ممالک میں ملازمت کے مواقع سے محروم ہو جائیں گے ۔ اور ان طلباء و طالبات کے مستقبل تاریک ہونے کے خدشات ہیں ۔ 5 مارچ 2024 کو ہائر ایجوکیشن کمیشن اور نیشنل کمپیوٹنگ کونسل کی طرف سےطلباء و طالبات، والدین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ہر گز ان اداروں میں ایڈمیشن نہ لیں جن کی ڈگریاں نیشنل کمپیوٹنگ کونسل سے منظور شدہ نہیں ہیں اور نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس ملتان ، بہاولپور اور رحیم یار خان کیمپس کمپیوٹر سے متعلقہ ڈگریز کروا رہی ہیں ان میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز میں کمپیوٹر سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، سوفٹ ویئر انجینئرنگ ، ڈیٹا سائنسز ، سائبر سکیورٹی ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور بی ایس پروگرامز میں کمپیوٹر سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، سوفٹ ویئر انجینئرنگ ، ڈیٹا سائنسز ، سائبر سیکورٹی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس شامل ہیں۔ مگر حیران کن طور پر یہ تمام ڈگری پروگرامز نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظور شدہ نہ ہیں۔ لہٰذا طلباء و طالبات کو کونسل کی طرف سے متنبہ بھی کیا جا چکا ہے کہ وہ نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس ملتان کیمپس کے مندرجہ بالا پروگرامز میں داخلہ لینے سے پہلے تسلی کر لیں تاکہ بعد ازاں پریشانی سے بچا جا سکے۔ اس خبر کی تفصیلات ان اداروں کے ڈائریکٹر میاں جہانگیر کو بھجوا کر ان کا موقف لینے کے لئے ان کے واٹس ایپ پر پیغام بھیجا گیا مگر ان کی طرف سے کوئی جواب روزنامہ قوم کو موصول نہ ہوا۔






