غیرقانونی وی سی نےنشان عبرت بنانےکی دھمکی دی تھی،انہی کے ایماپرلیکچرارمہوش چشتی نے ہراسمنٹ،غیراخلاقی میسج،دھمکی کاالزام لگادیا
سول جج عمرمختارچیمہ نے ویمن پولیس سٹیشن کی تفتیش سے اتفاق کرتے ہوئےمقدمہ خارج کردیا،تمام الزامات بےبنیاداورجھوٹےقرار
ملتان( سٹاف رپورٹر) سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ ملتان عمر مختار چیمہ نے اپنے تحریری فیصلے میں این ایف یونیورسٹی کے سابق اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف این ایف یونیورسٹی کی ملازمہ مہوش چشتی کی طرف سے یونیورسٹی انتظامیہ پر درج کرائے ہراسمنٹ کے مقدمہ نمبر 23/14 ویمن پولیس سٹیشن ملتان کی تفتیش سےاتفاق کرتے ہوئے 3 فروری 2024 کو مقدمہ خارج کردیا اور پروفیسر مرزا زوہیب کو باعزت بری کردیا ۔اپنے فیصلے میں معزز جج نے لکھ کہ مقدمہ کے تمام الزامات بے بنیاد اور جھوٹے ثابت ہوئے ہیں ۔مہوش چشتی این ایف سی یونیورسٹی میں لیکچرار ہیں اور ان کی والدہ زکریا یونیورسٹی میں ملازمت کرتی ہیں۔ مہوش نے الزام عائد کیا تھا کہ پروفیسر مرزا زوہیب نے 12 اپریل 2023 کو دن کے ڈھائی بجے اپنے دفتر میں ہاتھ پکڑا اور ہراساں کیا ۔موبائل میں غیر اخلاقی میسج اور دھمکی آمیز کالز کیں ۔یہ کیس دائر ہونے سے 4 ماہ پہلے پروفیسرمرزا زوہیب اور غیر قانونی اور غیر اخلاقی وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اختر ملک کالرو کے ساتھ منہ ماری ہوئی تھی اور ڈاکٹر کالرو نے 35 اساتذہ کے سامنے ناقابل اشاعت قسم کی گالیاں دے کر پروفیسر مرزا زوہیب سے کہا تھاکہ میں تمہیں عبرت کا نشان بنا دوں گا ۔یاد رہے کہ مہوش چشتی نے مقدمہ 2 اگست2023 کو درج کرایا جس میں وقوعہ 12 اپریل 2023 کو پروفیسر مرزا زوہیب پرہراسمنٹ کا الزام لگایا ۔ویمن پولیس سٹیشن میں جب پروفیسر مرزا زوہیب نے اپنا موبائل اور موبائل ڈیٹا پولیس کو دیا تو جو وقوعہ کا وقت لکھا تھا اس وقت اور اس دن پروفیسر مرزا زوہیب اپنے گھر ممتاز آباد موجود تھے۔ سی ڈی آر کے مطابق پروفیسر مرزا زوہیب نے نہ ہی کبھی مہوش چشتی کو کال کی اور نہ ہی کبھی کوئی میسیج بھیجا۔ سی ڈی آر سامنے آنے پر پولیس کی تفتیشی ٹیم نے الزام علیہ اور ملزم دونوں کا موبائل فرانزک کرانے کیلئے طلب کیا تو مہوش چشتی نے موبائل دینے سے انکار کردیا کہ وہ وائس چانسلر صاحب سے پوچھ کر موبائل دینے کا فیصلہ کریں گی جبکہ مرزا زوہیب نے اسی وقت اپنا موبائل تفتیشی ٹیم کے سامنے رکھ دیا۔ تفتیشی ٹیم نے کئی بار مہوش چشتی سے موبائل مانگا مگر انہوں نے اپنا موبائل دینے سے انکار کردیا کہ یہ پرسنل چیز ہے پولیس کو نہیں دے سکتی۔معزز جج نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا کہ ملزم کی طرف سے الزام علیہ کو کبھی بھی کوئی کال نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی میسیج بھیجا گیا ہے کوئی بھی عینی شاہد سامنے نہیں لایا گیا۔ رٹ پٹیشن نمبر 23/10035 سے یہ بات واضح ہے کہ اس کیس میں ملزم مرزا زوہیب نے وائس چانسلر این ایف سی کے خلاف عدالت عالیہ سے اس بابت رجوع کیا تھا کہ وائس چانسلر غیر قانونی طور پر اپنی سیٹ پر براجمان ہیں اور قانون کے مطابق وہ پبلک آفس ہولڈ نہیں کرسکتے جس کے ردعمل کے طور پر وائس چانسلر کا ئونٹر
بلاسٹ کے طور پر یہ جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی ۔ معزز جج نے لکھا کہ دونوں ملزمان کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوتا یہ عدالت کا وقت ضائع کیا گیا ہے ۔کیس کی تفتیش کے دران بھی تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ثابت ہوئے ۔ تفتیشی آفیسر نے ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر اپنی اخراج رپورٹ بنائی ہے اور اس رپورٹ سے اتفاق کرتے ہوئے مقدمہ خارج اور ایف آئی آر مسترد کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ اس خاتون لیکچرار مہوش چشتی نے جو ہراسمنٹ کی درخواست یونیورسٹی کو دی تھی اس میں لکھا تھا کہ پروفیسر مرزا زوہیب نے 2019 میں دفتر میں اس کا ہاتھ پکڑا تھا جبکہ ایف آئی آر میں یہی واقعہ 12 اپریل 2023 کو ظاہر کیا گیا ۔حیران کن امر یہ بھی ہے کہ انکوائری کمیٹی کے ممبران ڈاکٹر کامران لیاقت بھٹی، کنٹرولر امتحانات رسول احمد اور پروفیسر سروش نون نے مرزا زوہیب کو صفائی کا موقع دیئے بغیر وائس چانسلر کے دبائو پر پروفیسر مرزا زوہیب کو ملازمت سے برخاست کردیا جس پر مرزا زوہیب نے وفاقی محتسب کواپیل دائرکی تووفاقی محتسب نے6نومبر2023 کو یہ کہتے ہوئے مرزا زوہیب کو بحال کردیا کہ مرزا زوہیب کو سنا ہی نہیں گیا اور صفائی کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ وفاقی محتسب نے کہا کہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں کوئی بھی شہادت موجود نہیں ہے۔ اس لئے انکوائری رپورٹ اور سنڈیکیٹ کے تمام فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے 6 نومبر 2023 کو پروفیسر مرزا زوہیب کو تمام مراعات کے ساتھ یکم اگست 2023 کی پوزیشن پر بحال کرکے یونیورسٹی انتظامیہ کو ایک لاکھ روپیہ جرمانہ کیا مگر وائس چانسلر اپنی انا کی تسکین کی خاطر اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ کے حکم امتناعی لے آئے۔







