این ایف سی: ڈاکٹرکالروکابیگارکیمپ،برسوں سے174ملازمین دیہاڑی پرتعینات،پنشن نہ مراعات،عمرضائع

این ایف سی: ڈاکٹرکالروکابیگارکیمپ،برسوں سے174ملازمین دیہاڑی پرتعینات،پنشن نہ مراعات،عمرضائع

سیاسی پشت پناہی والے اذیت پسند انتظامی ٹولے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ملازمین اور اساتذہ کو مسلسل اذیت میں مبتلا رکھنے کیلئے نت نئے حربے،ماہوارنہیں یومیہ اجرت دی جاتی ہے

ڈاکٹراخترکالروکاآج تک کوئی کلاس نہ پڑھانے کامنفرد’’عالمی ریکارڈ‘‘، این ایف سی ٹرسٹ بنا کر کنٹریکٹ ملازمت کے عارضی لیٹرتھمادیئے،مستقلی کاجھانسہ،6پروفیسرزبھی شامل

ملتان( سٹاف رپورٹر) این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے سیاسی پشت پناہی والے اذیت پسند انتظامی ٹولے نے ناجائز وائس چانسلر کی سرپرستی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ملازمین اور اساتذہ کو مسلسل اذیت میں مبتلا رکھنے کیلئے نت نئے حربے استعمال کر رکھے ہیں اور دنیا بھر میں استاد جیسے معزز پیشے کو حتیٰ کہ خود بھی ایک مبینہ استاد ہوتے ہوئے ان کی توہین اور تذلیل کرنے کیلئے ڈیلی ویجز یعنی دیہاڑی داری پر گریجوایٹ اور پوسٹ گریجوایٹ اساتذہ کو سالہا سال سے ملازمتیں دے رکھی ہیں اور انہیں ماہوار تنخواہ نہیں بلکہ یومیہ کی بنیاد پر اجرت ملتی ہے۔ ان یومیہ اجرت والوں میں سے متعدد ایسے بھی ہیں جن کی ملازمت میں مستقل ہونے کی عمر بھی ضائع کر دی گئی ہے اور اس طرح این ایف سی ملتان کی اس اذیت پسند انتظامیہ کے ہاتھوں ان تمام دیہاڑی دار اساتذہ و دیگر عملے کو نہ تو پنشن مل سکے گی نہ گریجوایٹی اور نہ ہی کسی قسم کی مراعات کیونکہ ان کی ملازمت کا عرصہ کسی بھی گنتی میں نہیں آئے گا اور یہ صریحا ًآئین قوانین اور پاکستان مین تمام مروجہ ضابطے کی خلاف ورزی اور توہین ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اذیت دے کر راحت محسوس کرنے والے ڈاکٹر کالرو دنیا بھر کی ٹیچنگ ہسٹری میں ایک ایسا ’’منفرد ریکارڈ‘‘ رکھتے ہیں جو آج تک کسی کے پاس صدیوں سے نہیں ہے اور یہ منفرد ریکارڈ اس طرح سے ہے کہ پروفیسر کالرو نے زندگی بھیر ایک بھی کلاس نہیں پڑھائی۔ بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں وہ سول ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کرنے کے بعد پرنسپل رہے ۔انہوںنے زندگی بھر تدریس کا ذائقہ نہیں چکھا جبکہ ان کے قریبی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے منفی خیالات، انتقامی رویے اور کرتوتوں کی وجہ سے اللہ نے انہیں ایک دن کیلئے بھی استاد کے مقام تک نہیں جانے دیا کہ یہ تو نبویؐ مقام ہے جو نصیب والوں کو ملتا ہے۔ این ایف سی ملازمین کو ذہنی ٹارچر دینے کیلئے گزشتہ 12 سال میں سے 5 سال سفارش اور 7 سال غیر قانونی طور پر وائس چانسلر رہنے والے ڈاکٹر محمد اختر کالرو نے اس عرصے کے دوران ایک نیا راستہ نکالا جس کی یونیورسٹیوں کی مقامی اور عالمی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے یونیورسٹی میں ملازمین رکھنےکے بجائے این ایف سی ویلفیئر ٹرسٹ بنا کر 174 افراد کو ٹرسٹ کی کنٹریکٹ ملازمت کے عارضی لیٹر دے کر انہیں یونیورسٹی میں تعینات کر رکھا ہے اور یہ تمام سالہا سال سے اسی انتظار میں تھے کہ انہیں مستقل کر دیا جائے گا اور ڈاکٹر کالرو بھی یہی امید دلا کر انہیں دھوکہ دیتے اور اپنی ناجائز تقرری اور قبضہ کو طوالت دیتے رہے۔ ان 174 ٹرسٹ ملازمین میں 70 سے زائد اساتذہ اور 102 سے زائد غیر تدریسی اور انتظامی عملے پر مشتمل ملازمین ہیں۔ ان تمام 174 سے زائد ملازمین کو اب انکشاف ہوا ہے کہ ٹرسٹ کے ملازم ہونے کی وجہ سے ان کی سروس کا عرصہ کسی بھی کھاتے میں شمار نہیں ہو گا۔ دوسری کیٹیگری میں این ایف سی کمپنی کے کنٹریکٹ ملازمین شامل ہیں اور ان میں طاہر بھٹی لیب انجینئر اور ڈپٹی ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیسر کے طور پر گزشتہ 14 سال سے عارضی ہی چلے آ رہے ہیںسرفہرست ہیں جبکہ دیگر عارضیوں میں سپورٹس اسسٹنٹ خوشنود، ڈرائیور
امجد، اٹینڈنٹ اسلم، بس کنڈیکٹر ایوب، اٹینڈنٹس اعظم اور شاہد اختر شامل ہیں ان کے علاوہ اسسٹنٹس میں محمد صابر، اشرف بھٹی، علی عون، کامران سعید اور ندیم سیال کے نام شامل ہیں۔ ان 19 ملازمین میں سے 13 ملازمین سروس کی وہ حد بھی کراس کر چکے ہیں جس کے بعد کوئی ملازم مستقل ہو ہی نہیں سکتا گویا ان کی زندگی ہی یونیورسٹی انتظامیہ کی اذیت کی بھینٹ چڑھ گئی۔ تیسری کیٹیگری میں این ایف سی کے دیہاڑی دار ملازمین ہیں جن کی تعداد 140 ہے اور یہ سارے کے سارے ڈاکٹر کالرو ہی کے دور میں بھرتی ہوئے ہیں۔ انتہائی تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ان ڈیلی ویجز ملازمین میں 6 پروفیسر حضرات شامل ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں