ڈاکٹر اختر کالرو نے جعلی تعیناتی کو جاری رکھنے کیلئے جعلی اشتہار کی جعلی سینڈیکیٹ سے پچھلی تاریخوں میں منظوری لینے کی کوششیں شروع کر دیں
جعلی سینڈیکیٹ کے 10ممبران کو وائس چانسلر اپنے آفس میں باری باری بلا کر زبردستی دستخط کروا نےلگے،انکارپرہیڈشپ سے ہٹانے کی دھمکی
کوئی بھی ڈاکومنٹ دیکھنے، پڑھنے کی اجازت دیئے بغیر زبردستی دستخط ،ڈاکٹرکالرونےکارروائی سے بچنےکیلئےسینڈیکیٹ ممبران کوبھی ملوث کرلیا
وائس چانسلر کی تعیناتی کیلئے اخبار اشتہار کا پچھلی تاریخوں میں سینڈیکیٹ سے منظوری لینا نہایت ہی مضحکہ خیز اور قانون کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ
صدر مملکت عارف علوی 12 سال سے قابض غیر قانونی وی سی ڈاکٹر اختر کالرو کو غیر قانونی کاموں سے روکیں: یونیورسٹی ملازمین، پروفیسرز، سینڈیکیٹ ممبران کی اپیل
ملتان(سٹاف رپورٹر) غیر قانونی وائس چانسلر این ایف سی یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر اختر کالرو نے اپنی بطور وائس چانسلر جعلی تقرری کے بعد اپنی جعلی تعیناتی کو جاری رکھنے کے لیے وزارت تعلیم کی طرف سے روکے جانے کے باوجود آئندہ تقرری کے لئے د یئے جانے والے جعلی اشتہار کی جعلی سینڈیکیٹ سے پچھلی تاریخوں میں منظوری لینے کی کوششیں شروع کر دیں۔ جعلی سینڈیکیٹ کے ممبران کو وائس چانسلر اپنے آفس میں باری باری بلا کر زبردستی دستخط کروا رہے ہیں۔ بصورت دیگر سینڈیکیٹ کے10ممبران جو کہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بھی ہیں اور سینڈیکیٹ کے co-opted ممبرز ہیں اپنی ہیڈ شپ سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ ایک ممبر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وائس چانسلر صاحب ہم لوگوں کو باری باری اپنے آفس بلاتے ہیں اور ہمیں کوئی بھی ڈاکومنٹ دیکھنے، پڑھنے کی اجازت دیئے بغیر زبردستی دستخط کرا رہے ہیں۔ پہلے جو سینڈیکیٹ کے ممبران وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کی خواہش سے انکاری ہو وہ اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ایک ممبر نے یہ بھی بتایا کہ ہم لوگوں کو ایک لفظ اور ان ڈاکومنٹس میں کیا لکھا ہے یہ بھی پڑھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ جب ان سے کہا گیا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر
اختر کالرو کے ان تمام غیر قانونی کاموں میں آپ بھی ذمہ دار ہوں گے اور آپ کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم مجبور لوگ ہیں۔ دعا ہی کر سکتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے سینڈیکیٹ کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ کیونکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اخبار اشتہار میں واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ اخبار اشتہار سرچ کمیٹی کی اجازت سے دیا جا رہا ہے۔ جبکہ حقیقتاً چونکہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان میں سینیٹ ہی موجود نہیں تو سرچ کمیٹی کیسے بن سکتی ہے۔ اس بابت وفاقی وزارت تعلیم بھی اپنے اشتہار میں اس بات کا اعادہ کر چکی ہے کہ یہ اخبار اشتہار متعلقہ فورم کی منظوری کے بغیر دیا گیا ہے اس لیے غیر قانونی ہے۔ چنانچہ غیر قانونی وائس چانسلر اور غیر قانونی رجسٹرار کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ اس کارروائی سے بچنے کے لیے اب وائس چانسلر اور رجسٹرار نے اپنے ان غیر قانونی کاموں میں سینڈیکیٹ کے ممبران کو بھی ملوث کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں وائس چانسلر اور رجسٹرار کے ساتھ سینڈیکیٹ بھی انتظامیہ کے غیر قانونی کاموں کی جوابدہ ہو۔ اور وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے اخبار اشتہار کا پچھلی تاریخوں میں سینڈیکیٹ سے منظوری لینا نہایت ہی مضحکہ خیز اور قانون کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ ہے۔اور اس حوالے سے صدر پاکستان، وفاقی وزارت تعلیم ، اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسیوں کو بھی بذریعہ خط مطلع کر دیا گیا جس کی کاپی روزنامہ قوم کو موصول ہو چکی ہے۔ 17 جنوری 24 کو این ایف سی یونیورسٹی ملتان سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق این ایف سی یونیورسٹی ملتان کی سینیٹ ابھی تشکیل کے مراحل میں ہے۔ جو کہ 10 جنوری کو وی سی کی پوزیشن کے اخبار اشتہار کے بعد روزنامہ قوم کے انویسٹیگیشن سیل کی تحقیقاتی رپورٹ اور خبر کی تائید کرتی ہے۔ اب چونکہ سینیٹ کی تشکیل نہیں ہے تو سرچ کمیٹی کی تشکیل کیسے ممکن ہے۔ چنانچہ 10 جنوری کو جاری ہونے والا اخبار اشتہار اور 17 جنوری کو جاری ہونے والی پریس ریلیز دونوں سے وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کی بد نیتی واضح ہے کہ یہ اخبار اشتہار اور پریس ریلیز صرف اور صرف اپنی تعیناتی کو قائم کرنے کے لیے ہے۔ ایک اور امر قابل غور ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو نے 12-12-2017 کو برخاستگی کے بعد سے پہلے عدالت عالیہ کا سہارا لیے رکھا اور 2021 میں سٹے واپس لینے کے بعد بھی اب تک وی سی کی تعیناتی کے لیے کوئی اخبار اشتہار نہ دیا۔ اور اب وی سی ڈاکٹر اختر کالرو جو کہ 31 جنوری کو 65 سال کے ہو جائیں گے کو فوراً یونیورسٹی کا وسیع تر مفاد یاد آ گیا۔ یونیورسٹی ملازمین، پروفیسر حضرات اور سینڈیکیٹ کے گزشتہ اور موجودہ ممبران کی صدر مملکت جناب عارف علوی صاحب سے بحیثیت چانسلر
این ایف سی یونیورسٹی ملتان سے گزارش ہے کہ 12 سال سے قابض غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کو ان تمام غیر قانونی کاموں سے روکا جائے اس بابت خطوط لکھ کر جناب عارف علوی صاحب کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروائی گئی ہے اور تمام ملازمین بھی اسی بابت صدر پاکستان جناب عارف علوی صاحب کے کسی نوٹس کا انتظار کر رہے ہیں۔







