’’وفاقی وزارت تعلیم،صدرپاکستان سمیت کوئی ادارہ یونیورسٹی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا‘‘،طلباوطالبات کومطالبات کی فہرست پیش
احتجاج میں شامل ہونےپر 20 فیصد اضافی نمبردیئےجائینگے،سربراہ کیمیکل ڈاکٹرصادق حسین کی سی آرزکوفون پرہدایات
خاتون ٹیچر کےموبائل کی چیکنگ،غیرقانونی وی سی عملے سے احتجاج میں ساتھ دینےکاحلف لےچکے،بغاوت کی کارروائی ہوسکتی ہے:قانونی ماہرین
ملتان( سٹاف رپورٹر) کہتے ہیں کہ فرعون کو تو کالج کی نہ سوجھی تھی مگر این ایف سی یونیورسٹی انتظامیہ ایسے تمام تر غیر قانونی اور غیر اخلاقی فیصلوں کو تحفظ دینے کیلئے اب طلبا وطالبات سے مظاہرے کرانے اور لاہور ملتان روڈ پر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے طلبا و طالبات سے یہ مطالبات کروائے جائیں گے کہ وفاقی وزارت تعلیم اور صدر پاکستان سمیت کسی بھی ادارہ کویونیورسٹی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت سے روکا جائے اور جس طرح 2017ء سے این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے معاملات غیر قانونی، غیر اخلاقی، غیر معیاری اور غیر تعلیمی انداز میں چلائے جارہے ہیں اسی طرح چلتے رہیں۔ طلبا و طالبات کو احتجاج میں شامل ہونے کی صورت میں 20 فیصد اضافی نمبر دیئے جائیں گے۔ کیمیکل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر صادق حسین نے تمام سی آریعنی کلاسوں کے نمائندہ طالب علموں کو فون پر ہدایات دی ہیں جس کی تفصیلات روزنامہ قوم کو موصول ہوچکی ہیں ۔اس حوالے سے تمام طلبا و طالبات کے واٹس ایپ گروپ بنا دیئے گئے ہیں جس میں براہ راست ڈاکٹر اختر کالرو جوکہ خود بھی غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر65 سال کی عمر کراس کرنے کے باوجود وائس چانسلر کی اسامی پر ناجائز قابض ہیں اب براہ راست طلبا و طالبات کو اپنے گھنائونے مقاصد کیلئے استعمال کرنے پر تل گئے ہیں ۔اس تمام صورتحال کا بہت بے رحمانہ پہلو یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے گزشتہ روز ایک (س) نامی خاتون ٹیچر کا زبردستی موبائل کھلوا کر چیک کیا ۔ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ یہ موبائل ناجائز اور غیر قانونی رجسٹرار نصر اللہ بابر نے از خود چیک کیا اور خاتون کے ساتھ بدکلامی بھی کی ۔ مذکورہ لیڈی ٹیچر کے بارے میں یہ بھی سنا گیا ہے کہ وہ وائس چانسلر کی سطح کی ایک تعلیمی شخصیت کی بیٹی ہیں۔ یاد ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر اختر علی ملک اس سے پہلے بھی ویڈیو پیغام میں سنڈیکیٹ اور سٹاف کے سامنے وفاقی وزارت تعلیم اور ایوان صدر کو دھمکیاں دے چکے ہیں جس کی ویڈیو ریکارڈنگ روزنامہ قوم کے پاس محفوظ ہے اور یہ ویڈیو ایوان صدر اور وفاقی وزارت تعلیم کے پاس بھی موجود ہے۔ اس ویڈیو میں حلف لیا گیا کہ اگر میں وفاقی وزارت تعلیم اور ایوان صدر میں بیٹھے ان پڑھ اور بی اے پاس بابو لوگوں کے خلاف احتجاج کروں تو آپ میرا ساتھ دیں گے۔ جس پر رجسٹرار ،خزانچی ، کنٹرولر اور سنڈیکیٹ کے ممبران نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی اس ویڈیو پر روزنامہ قوم نے سینئر وکلاکی رائے لی تو بتایا گیا کہ اگر یہ ویڈیو اوریجنل ہے تو ان تمام پر ریاست کے خلاف بغاوت کے تحت کسی بھی وقت کارروائی ہوسکتی ہے۔







