ملتان ( سٹاف رپورٹر ) این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے 2018 سے ناجائز اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے برطرف ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو کے ناجائز کاموں کی مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں جن کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے تفصیلی فیصلے کے مطابق برطرف وائس چانسلر اخترکالرو سے 6 سال اور 4 ماہ کی تنخواہیں جو کہ تقریباً 5 سے 6 کروڑ بنتی ہیں کی وصولی کی جائے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر اختر جو کہ بنیادی طور پر بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے پروفیسر تھے اور 2012 میں ڈیپوٹیشن پر این ایف سی یونیورسٹی ملتان میں سیاسی وابستگی پر وائس چانسلر تعینات ہوئے تاہم 60 سال کی عمر پوری ہونے پر 2019 میں بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ریٹائر ہوئے اور ان کو 2012 سے 2019 تک اپنی چھٹیوں کو کیش کروانا یاد نہ رہا مگر این ایف سی یونیورسٹی کے آڈٹ آفیسر محمد الیاس کے مطابق انہوں نے 2020 میں لیو انکیشمنٹ کیلئےسینڈیکیٹ سے منظوری لی اور گزشتہ 8 سال کی لیو انکیشمنٹ این ایف سی سے غیر قانونی طور پر وصول کی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ لیو انکیشمنٹ کی وصولی کے دنوں میں سابقہ ریٹائرڈ خزانچی حسن نقوی کورونا کا شکار تھے تو ڈاکٹر اختر کالرو نے کلرک کم خزانچی مغفور انور چغتائی کی ملی بھگت سے 8 سال کی لیو انکیشمنٹ ناجائز طورپر وصول کرکے Fortuner گاڑی خرید لی۔ بعد ازاں یکم جنوری 22 سے نئے کلرک کم خزانچی مغفور انور چغتائی نے تمام تر لیو انکیشمنٹ ڈاکٹر اختر کالرو کو مہیا کی جس کی تمام تر رقم ڈیڑھ کروڑسے 2 کروڑ کے لگ بھگ بنتی ہے۔ اس کے علاوہ سابق وزیر صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی سے نوشہرو فیروز میں خرید کی گئی بنجر زمین بھی جو کہ اختر کالرو نے 2016 میں صرف اپنی تعیناتی کو توسیع دینے کی خاطر خرید کی اور اسکی خریداری سے پہلے کوئی ٹیسٹنگ نہ کروائی گئی جو کہ بعد ازاں زمین کا معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ زمین کسی بھی قسم کے استعمال کے قابل نہیں ہے اور نہ ہی کلراٹھی اراضی ہونے کی وجہ سے اس پر عمارت کا سٹرکچر بن سکتا ہے۔ یہ آواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تک بھی پہنچی مگر اس معاملے کو بھی سیاسی بنیادوں پر دبا دیا گیا۔ 2021 تک یونیورسٹی کے 3334 ملین روپے بغیر منظوری کے استعمال کیے گئے جو کہ نہایت ہی غیر قانونی اقدام ہے۔ اختر کالرو نے یونیورسٹی کے نہایت قیمتی 4 موبائل فون اپنے استعمال کے لئے لیے تھے جن میں سے ایک موبائل فون برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ باقی تین تاحال ڈاکٹر اختر کالرو کے قبضے میں ہیں۔ جن کی بابت ڈاکومنٹس کو چھپا لیا گیا ہے۔ ایک اور انکشاف کے مطابق اختر کالرو نے یونیورسٹی کی اپنے استعمال کی 2 عدد کاریں بھی اپنے ہی عزیز اختر کھرل جو کہ 12 سال تک یونیورسٹی میں ہر قسم کے فنکشن کے اکلوتے ٹھیکیدار رہے ہیں کے نام سے خرید کروا کر اپنے ہی گھر رکھ لیں۔ اس کے علاوہ نواب پور سے تعلق رکھنے والے250 افراد اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر 19 ٹیچرز کی تعیناتیاں غیر قانونی کی گئیں جن کی تعیناتیوں کے لیے منظور شدہ طریقہ کار میں تبدیلی کی گئیں جن کی بابت آڈٹ پیراز بھی موجود ہیں۔ ان ٹیچرز میں کمپیوٹر سائنس سے تعلق رکھنے والے سربراہ کمپیوٹر سائنس ڈاکٹر نعیم اسلم کے کار خاص محمد فضیل، سابق وائس چانسلر اختر علی ملک کے کار خاص محمد عمیس اور عمر بن نعمان بھی شامل ہیں۔ جن کو غیر قانونی ادائیگیاں 2021 تک تقریباً 1 کروڑ 76 لاکھ کی گئی۔ اس کے علاوہ حیران کن طور پر ہر مہینے ڈاکٹر اختر کالرو جو کہ نواب پور اپنے گھر میں رہائش پذیر رہے، یونیورسٹی فنڈز کے ظالمانہ استعمال سے انہوں نے سینڈیکیٹ سے ہر ماہ تقریباً اپنے گھر کے کمرے اور واش رومز کی صفائی کے لیے 32 تیزاب کی بوتلیں، 45 فینائل کی بوتلیں، 6 لوٹے، 6 پوچے، 6 وائپر، 6 عدد جھاڑو، وم پاؤڈر، برتن دھونے والی صابن، کپڑے دھونے والےسرف جن کا بل میٹرو کیش اینڈ کیری سے 70000 بنتا تھا، کی منظوری لی ہوئی تھی اور یہ تمام تر سامان میٹرو سے ڈائریکٹ نواب پور ان کے گھر پہنچ جایا کرتا تھا۔ ڈاکٹر اختر کالرو نے قلمکار کمپنی کا مہنگا ترین فرنیچر جو کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہاؤس کے لیے منگوایا تھا بھی اپنے گھر واقع نواب پور شفٹ کر دیا۔ اس کے ایک صوفہ سیٹ کی قیمت 20 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔ مزید تصدیق شدہ حقائق کے مطابق ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو نے یونیورسٹی میں تعمیرات کے دوران اپنے 28 کنال پر واقع 5 گھروں، ہیڈ محمد والا کے نزدیک ڈیرہ اور 6 عدد فش فارمز کی تعمیرات بھی کروا لیں۔ ان 5 گھروں میں ان کے چھوٹے بھائی زاہد کالرو، دوسرے میں اختر کالرو ، تیسرے میں بڑے بھائی خورشید کالرو، چوتھے گھر میں حبیب بینک سے منیجر ریٹائر ہونے والے لئیق کالرو ، پانچویں گھر میں ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ جیل خانہ جات سعادت کالرو رہائش پذیر ہیں ۔ یونیورسٹی میں تمام بلڈنگز کو سولر پر منتقل کروا کر اپنے 5 گھروں، ڈیرہ اور فش فارمز کو بھی سولر پر منتقل کروا لیا گیا۔ ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو نے یونیورسٹی سے جاتے جاتے اپنی تمام تر فائلیں اپنے گھر، اپنے پرسنل اسسٹنٹ راشد قیوم اور ڈپٹی رجسٹرار لیگل نذیر احمد چشتی کے گھر محفوظ کر لی تھیں اور یونیورسٹی کے وی سی آفس اور اکاؤنٹس آفس کے کمپیوٹرز سے تمام تر ریکارڈ ڈیلیٹ بھی کروا دیا تھا۔ ایک اور اہم انکشاف کے مطابق این ایف سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ( ر)معظم اعجاز کی کابینہ جو کہ دراصل ڈاکٹر اختر کی کابینہ کے ہی افراد ہیں ابھی بھی مسلسل ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو سے رابطے میں ہیں اور اہم پوسٹوں پر تعینات افراد ابھی بھی ڈاکٹر اختر سے ہدایات لے رہے ہیں جس کی بابت خفیہ رابطوں کے ثبوت روزنامہ قوم کو موصول ہو چکے ہیں۔






