اینٹی کرپشن نے سب رجسٹرار ملتان سٹی و صدر، وثیقہ نویسوں کا جعلی رجسٹری نیٹ ورک توڑ دیا

ملتان(پ ر)ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ کی ہدایات کے مطابق صوبہ بھر میں کرپٹ مافیا، بالخصوص جعلی رجسٹریوں میں ملوث وثیقہ نویسوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان بشارت نبی کی زیر نگرانی ایک بڑے میگا سکینڈل کو بے نقاب کرتے ہوئے بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی گئی۔تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سب رجسٹرار سٹی ملتان و صدر اور متعدد وثیقہ نویسوں نے باقاعدہ گٹھ جوڑ کے تحت جعلی رجسٹریوں کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا جس کے ذریعے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ یہ عناصر نہ صرف قانون کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے بلکہ ریاستی نظام کو دھوکہ دینے میں بھی ملوث پائے گئے۔کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں کے سرپرائز وزٹ کے نتیجے میں فوری ایف آئی آر درج کر کے کیس اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان کے حوالے کیا گیاجس پر اینٹی کرپشن ٹیم نے بلا تاخیر کارروائی کرتے ہوئے28 وثیقہ نویسوں کو گرفتار کر لیا۔500 سے زائد جعلی رجسٹریاں برآمد کیں۔جعلی سٹیمپ پیپرز اور FBR کی بوگس رسیدیں 256 C+256 K سمیت) قبضے میں لے لیں۔سرکاری مہریں اور ریکارڈ بھی برآمد کر لیا۔مزید برآں ملزمان سے 1 کروڑ 22 لاکھ 10 ہزار 756 روپے برآمد کر کے سرکاری خزانے میں جمع کرا دیے گئے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔اینٹی کرپشن حکام نے واضح کیا ہے کہ وثیقہ نویسوں کے روپ میں چھپے یہ کرپٹ مافیا کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ یہ عناصر عوام اور ریاست دونوں کے مجرم ہیں۔ ان کے خلاف نہ صرف فوجداری مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا بلکہ ان کی جائیدادیں ضبط، لائسنس منسوخ اور بلیک لسٹ بھی کیا جائے گا۔مزید کہا گیا کہ جعلی رجسٹریاں بنانے والے اور ان کی معاونت کرنے والے تمام عناصر کو نشان عبرت بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی بھی سرکاری نظام کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کے تمام سہولت کاروں کو گرفتار کیا جائے گا۔مالی فوائد حاصل کرنے والے ہر فرد کا احتساب کیا جائے گااور اس گھناونے جرم میں ملوث کسی بھی شخص کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا۔مزید گرفتاریاں اور بڑے انکشافات متوقع ہیں جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں