بہاولپور ( کرائم سیل) اندھیر نگری چوپٹ راج، ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ نے غیر قانونی طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب،چیف سیکرٹری پنجاب اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کے اختیارات بذات خود استعمال کرکے بہاولپور سمیت پنجاب کے مختلف ریجنل ہیڈ کوارٹرز پر گریڈ17کے ”کماؤ پوت“ ڈی ایس پیز کو ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لگادیا ۔شہری نے معروف قانون دان چوہدری آفتاب مبارک ایڈووکیٹ ہائیکورٹ ڈاکٹر محمد عرفان حنیف ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کی وساطت سے ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ کا غیر قانونی نادر شاہی حکم لاہور ہائی کورٹ بنچ بہاولپور میں چیلنج کردیا۔ ابتدائی سماعت کے موقع پر پٹیشنر کے کونسل چوہدری آفتاب مبارک ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے رسپانڈنٹس حکومت پنجاب بذریعہ چیف سیکریٹری پنجاب ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب،ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب اور عبدالرحمان ڈی ایس پی گریڈ17 /ڈائریکٹر انٹی کرپشن سے کمنٹس/ جواب طلب کئے تھے۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ نے اپنے جرم کو چھپانے کیلئے اورفراڈ در فراڈ کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اور عدالت عالیہ کو گمراہ کرنے کیلئے اپنی جانب سے چیف سیکرٹری پنجاب اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کے کمنٹس بھیج دیئے حالانکہ چیف سیکرٹری پنجاب اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب لاہور نے اپنے اپنے کمنٹس خود عدالت عالیہ کو بھجوانے تھے۔ دونوں اعلیٰ افسران نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کو اپنی جانب سے کمنٹس عدالت عالیہ بھیجنے کا اختیار ہی نہیں دیا۔ رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب نے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلہ جات اور سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن پنجاب کے نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کر کے اختیارات سے تجاوزکرتے ہوئے ریجنل ڈائریکٹر انٹی کرپشن بہاولپور کی پوسٹ پر گریڈ 17کے ڈی ایس پی عبدالرحمان عاصم کو پہلے ڈپٹی ڈائریکٹر گریڈ18 پوسٹنگ کرکے گریڈ 19کی پوسٹ پر بطور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن تعینات کردیا ہے۔ اسی طرح پنجاب کے بیشتر ریجنزمیں گریڈ17کے ڈی ایس پیز کو گریڈ19کی ڈائریکٹر انٹی کرپشن کی پوسٹ انجوائے کرنے کیلئے تعینات کیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب میں ڈائر یکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب نے ریجنل ڈائریکٹرز گریڈ19کی پوسٹ پر گریڈ17کے ڈی ایس پیز کو ڈائریکٹرز تعینات کردیا۔ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر گریڈ 17کے ڈی ایس پیز وغیرہ کو ریجنل ڈائریکٹر ز اینٹی کرپشن گریڈ19کی پوسٹ پر لگانے کیلئے مورخہ 11مئی 2024کو حکم نامہ جاری کیا غیر قانونی حکم کے نتیجے میں عبدالرحمان عاصم ڈی ایس پی گریڈ17 کی غیر قانونی تعیناتی بطور ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بہاولپور گریڈ18میں کرتے ہوئے بعد ازاں ریجنل ڈائریکٹر انٹی کرپشن بہاولپور گریڈ19 کی ڈیوٹی سونپ دی۔ اسی طرح مدثر حسین بھٹی ڈی ایس پی گریڈ17کو ڈپٹی ڈائریکٹر گریڈ18، بشارت نبی ڈی ایس پی گریڈ 17کو ڈپٹی ڈائریکٹر گریڈ18کی پوسٹ پر تعینات کرکے بعد ازاں ریجنل ڈائریکٹر ملتان گریڈ19کی ڈیوٹی سونپ دی ۔اسی طرح ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کی پوسٹ پر گریڈ 18کے افسران کی تقرریاں بھی آرڈر مورخہ 11مئی 2024کے تحت کی گئی تھیں۔ عبدالرحمان عاصم کی جانب سے ہائی کورٹ میں پیروی کرنیوالے لاء آفیسر انٹی کرپشن بہاولپور کی جانب سے سماعت مورخہ 18جولائی 2024کے موقع پر دیئے گئے دلائل پر معزز جج ہائی کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی چھوٹے گریڈ والے افسران کی بڑے گریڈ کی پوسٹ پر تعیناتی کو خلاف قانون قرار دیا ہے اور اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ شہنشاہ احمد چانڈیہ سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن رحیم یار خان واپس پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ٹرانسفر کرواچکے ہیں اور CCDرحیم یار خان تعینات ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اگر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب میں ریجنل ڈائریکٹرز،ڈپٹی ڈائریکٹرز کی پوسٹ پر میرٹ کی دھجیاں اڑانے کا نوٹس نہیں لے سکتیں تو وہ اینٹی کرپشن پنجاب بالخصوص بہاولپور سے کرپشن کے خاتمے کیلئے مثبت نتائج کیسے حاصل کرسکتی ہیں ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ عبدالرحمان عاصم ڈی ایس پی/ریجنل ڈائریکٹر انٹی کرپشن بہاولپور نے 1سال کی تاخیری حربے استعمال کرنے کے بعد گزشتہ روز اپنی جانب سے کمنٹس عدالت عالیہ میں داخل کروائے ہیں۔ عدالت عالیہ نے فائنل بحث کیلئے آئندہ سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی ہے۔







