اینٹی کرپشن ملتان کی شاندار ریکوری، گرفتاریوں کے بعد بھی کرپشن نیٹ ورک پر سوال

ملتان(عامر حسینی) اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان ریجن نے سال 2025 کے اختتام پر ریکارڈ ریکوریاں اور متعدد کارروائیاں دکھا کر ایک قابل ذکر کارکردگی پیش کی، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار کئی سوالات کو بھی جنم دے رہے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ نے ریجن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کرپشن کو ناقابل برداشت قرار دیا، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ محض اعداد و شمار اور پریس بیانات سے نہ تو بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہے اور نہ ہی عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔سالانہ رپورٹ کے مطابق 4,360 شکایات اور 840 انکوائریاں نمٹائی گئیں جبکہ 163 مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ 261 چالان عدالتوں میں جمع کرائے گئے، 64 اشتہاری اور 200 سرکاری اہلکار گرفتار کیے گئے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان میں سے کتنے مقدمات میں واقعی سزا ہوئی یا وہ محض گرفتاری کی حد تک محدود رہے۔ریکوری کی مجموعی رقم — 15 کروڑ 12 لاکھ روپے — کو نمایاں کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ ریکوریاں عوامی سطح پر کرپشن میں واقعی کمی کا عکاس ہیں، یا محض مخصوص کیسز کی نمائندہ مثالیں ہیں؟ اگر بدعنوانی واقعی اس قدر قابو میں ہے تو پھر ہر سال نئے نیٹ ورکس، نئی گرفتاریاں اور نئی ریکوریاں کیسے سامنے آتی ہیں؟نشتَر اسپتال ملتان میں کرپشن نیٹ ورک کی تفصیلات چونکا دینے والی ہیں، جہاں ادویات کی خریداری سے لے کر غیر قانونی بھرتیوں اور جعلی بلنگ تک ایک مکمل نظام کی نشاندہی کی گئی۔ اگر یہ نیٹ ورک اس قدر منظم تھا تو سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ نگران ادارے، خود محکمہ صحت، اور سابقہ تفتیشی ادارے کہاں تھے؟ کیا اینٹی کرپشن کا کام صرف “بعد از نقصان” کارروائیاں کرنا ہے یا بروقت نگرانی بھی اس کا دائرہ کار ہونا چاہیے؟پریشان کن بات یہ ہے کہ کئی اہم افسران جن میں گریڈ 17 سے 19 کے افسران شامل ہیں، اس نیٹ ورک کا حصہ رہے اور بعض گرفتار بھی ہوئے، مگر ان مقدمات کی پیش رفت اور عدالتی انجام پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ کیا یہ گرفتاریاں بھی محض علامتی ہیں، یا واقعی سزا تک پہنچیں گی؟ریجنل اینٹی کرپشن دفتر میں منعقدہ ورکشاپ جہاں عدالتوں میں مقدمات کی پیروی پر گفتگو کی گئی، وہاں بھی یہ پہلو اجاگر نہیں ہوا کہ کتنے مقدمات محض تفتیش یا تاخیر کا شکار ہیں۔ افسران کی بڑی تعداد میں شرکت، یادگاری شیلڈز اور مہمانِ خصوصی کی آمد تو قابلِ ذکر ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ان مشاورتی اجلاسوں کا کوئی قابلِ پیمائش نتیجہ بھی سامنے آیا یا نہیں؟بعض ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن جیسے ادارے جب محض ریکوری کے اعداد و شمار پر فخر کرتے ہیں، تو وہ بنیادی اصلاحات اور انسدادی اقدامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس سے ایک تاثر یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ادارہ صرف مخصوص افسران یا محکموں کے خلاف کارروائی کرتا ہے، جبکہ دیگر بااثر حلقے محفوظ رہتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ نیب اور اینٹی کرپشن جیسے ادارے ماضی میں بھی متنازعہ کرداروں، سیاسی دباؤ، اور نمائشی اقدامات کے باعث عوامی اعتماد کھو چکے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ملتان ریجن کی شاندار کارکردگی کو حقیقی کامیابی ماننے سے قبل مکمل شفافیت، عدالتی فیصلوں کی تفصیل اور مستقبل کی پالیسیوں کی وضاحت ضروری ہے۔آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اینٹی کرپشن کا کام صرف برآمد رقم بتانا نہیں بلکہ نظام کو شفاف بنانا، کرپشن کے مستقل راستے بند کرنا اور اعتماد بحال کرنا ہے۔ جب تک ادارے خود کو بھی احتساب کے لیے پیش نہیں کرتے ان کی کارکردگی پر سوال اٹھتے رہیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں