اینٹی کرپشن ملتان ریجن معمولی کلرک راؤ لیاقت کے ہاتھوں یرغمال، 22 ٹاؤٹس کا نیٹ ورک

ملتان (کرائم سیل) اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان ریجن کے پورے نظام کو ایک معمولی کلرک راؤ لیاقت علی نے مکمل طور پر ہائی جیک کر رکھا ہے اور اس نے 22 ٹائوٹوں پر مشتمل ایک پوری ٹیم بنا رکھی ہے جس میں کچھ ریٹائرڈ اوورسیئر اور دیگر ٹیکنیکل سٹاف بھی شامل ہے اور یہ پورے ریجن میںپبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ، لوکل گورنمنٹ اینڈ رولر ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، بلدیاتی اداروں، پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ، ضلع کونسلز سمیت ریجن بھر میں جس بھی ترقیاتی محکمے کے زیر انتظام کسی بھی قسم کا کوئی ڈویلپمنٹ کا کام مکمل ہوتا ہے، رانا لیاقت کے ٹاؤٹ مذکورہ کام میں کمزوریاں ڈھونڈنے پہنچ جاتے ہیں اور پھر یہی ٹاؤٹ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے نام درخواستیں دائر کر کے متعلقہ محکموں کے افسران کو دباؤ میں لاتے ہیں اور اگر معاملات طے ہو جائیں اور ٹھیکیدار و افسران راؤ لیاقت کے پالتو ان ٹائوٹوں کا منہ میٹھا کروا دیں تو درخواست وہیں دبا دی جاتی ہے اور اگر معاملات حل نہ ہو سکیں تو پھر درخواستیں دلوا کر کارروائی شروع کروا دی جاتی ہے اور حیران کن طور پر ملتان تعینات ہونے والے اینٹی کرپشن کے سربراہان میں سے گزشتہ 10 سال میں صرف ایک آفیسر ایسے تھے جو راؤ لیاقت علی کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوئے اور جنہوں نے رائو لیاقت علی کو نتھ ڈالے رکھی جبکہ باقی افسران راؤ لیاقت علی کے نیٹ ورک کے سامنے بے بس ہیں اور صورتحال اس حد تک راؤ لیاقت علی کے قابو میں ہے کہ ملتان میں تعینات اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے افسران اسے نظر انداز اس لیے بھی نہیں کر سکتے کہ مذکورہ کلرک نے افسران کی کمزوریاں اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افسران کو علم ہی نہیں ہوتا اور ان کا نام دفتر کے باہر ہی سے بیچ دیا جاتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں