ملتان(سٹاف رپورٹر) کیا ایم ڈی اے گورننگ باڈی سابقہ گورننگ باڈی کے فیصلوں کو منسوخ کر سکتی ہے؟ کیا ہائی کورٹ کے واضح احکامات اور فیصلے کے بعد کوئی بھی حکومتی ادارہ ہائی کورٹ کے احکامات کے برعکس فیصلہ کر سکتا ہے؟ 40 سال سے جن متاثرین کے پلاٹوں پر ناجائز قابضین بیٹھے ہیں اور جن کا قبضہ ختم کروانا ایم ڈی اے کی ذمہ داری ہے، کیا گزشتہ تین دہائیوں میں ایم ڈی اے یہ ذمہ داری پوری کر سکا ہے۔ آفیسرز کالونی میں سرکاری واجبات اور ضابطے کی تمام تر کارروائیاں مکمل کرکے 50 سال قبل بوسن روڈ اور 9 نمبر چونگی کے سنگم میں واقع انتہائی قیمتی اور کمرشل پلاٹس کے عوض سابق ڈی جی ایم ڈی اے نے گورننگ باڈی کے فیصلے اور ہائی کورٹ کے واضح احکامات کی روشنی میں جن متاثرین کے پلاٹوں پر گزشتہ 50 سال سے مختلف لوگوں نے قبضے کر رکھے تھے اور اسی عرصے کے دوران جھونپڑیاں تین چار منزلہ عمارتوں میں تبدیل ہو گئیں مگر باوجود کوشش ایم ڈی اے کا عملہ الاٹیز کو پراپرٹی کلیئر کروا کر تو نہ دے سکا مگر دوسری طرف تمام ناجائز قابضین سے مسلسل بھتہ وصول کرکے ان ناجائز قابضین کو تحفظ دیا جاتا رہا۔ پراپرٹی کا مالک نہ ہونے کے باوجود ان تمام کو بجلی کے کنکشن بھی دلوا دیئے گئے اور یہ کام بھی ایم ڈی اے کی ملی بھگت سے ہوا۔ سابقہ گورننگ باڈی کی منظوری کے بعد موجودہ گورننگ باڈی کی طرف سے منسوخی کے فیصلے کی میٹنگ کے منٹس جاری نہ ہونے کے باوجود عجلت میں ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ لینڈ مینجمنٹ سے الاٹ شدہ پلاٹوں کی منسوخی کا لیٹر جاری کروانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ متاثرہ افراد نے ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی کے لئے درخواست دینے کا فیصلہ کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گزیٹڈ آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی کے ممبران نے یہ پلاٹ 1962 میں خریدے تو ان پر کسی قسم کا کوئی قبضہ نہ تھا۔ ایک سال اقساط میں تمام رقم ادا کرنے کے بعد جب الاٹیز کو قبضہ دلوانے کا وقت آیا تو ان پلاٹوں پر قابضین قیام پذیر تھے۔ سوسائٹی انتظامیہ نے درخواست کے باوجود قبضہ واگزار نہ کرایا۔ 1976 میں ایم ڈی اے کے قیام کے بعد مذکورہ کالونی کی دیکھ بھال اور تمام تر ذمہ داری ملتان امپروومنٹ ٹرسٹ سے ایم ڈی اے کے سپرد کر دی گئی مگر ایم ڈی اے بھی مذکورہ پلاٹس کا قبضہ واگزار نہ کرا سکا۔ سابق ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے آغا محمد علی نے ہائی کورٹ کے واضح احکامات کی روشنی میں متاثرین کو الاٹ شدہ پلاٹس پر قابضین سے سیٹلمنٹ کی فیس 3 ہزار روپے فی مرلہ وصول کرکے انہیں قانونی قرار دے دیا جس کے بعد متبادل پلاٹ سے ان کا حق قرار پایا کیونکہ 2004 میں ہائیکورٹ نے آغا سرور کی فیملی کو کالونی کے زیر قبضہ پلاٹس کے متبادل جگہ الاٹ کرنے کی ہدایت کی مگر ایم ڈی اے نے اس فیصلہ پر کوئی پیشرفت نہ کی اور متاثرین 12 سال مزید دھکے کھانے کے بعد 2016 میں دوبارہ ہائیکورٹ پہنچ گئے جس پر عدالت کی جانب سے سخت احکامات پر متبادل پلاٹوں کی فراہمی کی فائل پر کام شروع ہوا اور 2021 میں کورٹ کے احکامات کی روشنی میں گورننگ باڈی نے سرکاری ریٹ کے مطابق متاثرین کو فاطمہ جناح کالونی اور نیو شاہ شمس کالونی میں ضابطے کی تمام تر کارروائی مکمل کرکے متبادل پلاٹس الاٹ کر دیئے مگر صرف ایک پلاٹ کا قبضہ دیا گیا اور باقی پلاٹوں کا پراسس روک دیا گیا کیونکہ الاٹیز ایم ڈی اے افسران کے’’مطالبات‘‘پورے کرنے اور انہیں مٹھائی دینے میں ناکام رہے۔ 2024 میں ایم ڈی اے کی طرف سے ہائیکورٹ کے احکامات پر ایک بار پھر الاٹ کئے گئے پلاٹس کے الاٹمنٹ لیٹرز کنفرم کئے گئے مگر الاٹیز اور ایم ڈی اے افسران کے درمیان ڈیل ناکام ہونے کے بعد معاملے نے سابق ڈی جی ایم ڈی اے رانا سلیم کو مس لیڈ کیا اور فرحان نامی شخص سے مذکورہ الاٹمنٹ کے خلاف ہائیکورٹ میں ایک درخواست دلوا دی تو عدالت نے ڈی جی کو مذکورہ شخص کی درخواست پر ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا کہا مگر انہوں نے آٹھ ماہ تک کوئی کارروائی نہ کی۔موجودہ ڈی جی نے 21 نومبر کو فرحان نامی شخص کی درخواست پر جانچ پڑتال کی یقین دہانی کروا کر فیصلہ ایک بار پھر گورننگ باڈی کو بھجوا دیا حالانکہ مذکورہ درخواست میں ڈی جی کو جواب دینے کا پابند بنایا گیا تھا مگر طے شدہ پلان کے مطابق اوپر تلے دو گورننگ باڈی کے اجلاس بلا کر متبادل پلاٹوں کی الاٹمنٹ بارے اپنی ہی گورننگ باڈی کا فیصلہ منسوخ کرکے 50 سال بعد ایک مرتبہ پھر الاٹیز کو ان کے حق سے محروم کر دیا گیا ۔حیران کن امر یہ ہے کہ نئی گورننگ باڈی کے ایجنڈا اور ورکنگ پیپر میں کسی بھی جگہ متاثرین کے حق میں ہونے والے ہائیکورٹ کے تینوں فیصلوں کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گورننگ باڈی کی میٹنگ کے منٹس جاری نہ ہونے کے باوجود عجلت میں ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ لینڈ مینجمنٹ سے الاٹ شدہ پلاٹوں کی منسوخی کا لیٹر جاری کروادیا گیا۔ ایم ڈی اے کے مبینہ غلط فیصلہ کے خلاف متاثرین نے ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔







