ایم ڈی اے کی بڑی کاروائی، ملتان میں غیر قانونی ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم سیل

ملتان (سٹاف رپورٹر) شہر میں غیر قانونی ہاؤسنگ مافیا کے خلاف بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) نے بغیر این او سی قائم اور چلنے والی مبینہ ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم کو سیل کر دیا۔ یہ کارروائی اُس وقت عمل میں لائی گئی جب روزنامہ قوم کی مسلسل اور دو ٹوک رپورٹنگ نے متعلقہ حکام کو حرکت میں آنے پر مجبور کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے عطا الحق نے روزنامہ قوم میں شائع ہونے والی خبروں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر اربن ٹاؤن پلاننگ اور ڈپٹی ڈائریکٹر اربن ٹاؤن پلاننگ سے فوری رپورٹ طلب کی۔ ان سے سوال کیا گیا کہ اگر مذکورہ ہاؤسنگ سکیم کے پاس این او سی موجود نہیں تو اس کے خلاف تاحال کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ رپورٹ طلب ہونے کے بعد انفورسمنٹ سیل، اربن پلاننگ اور اسٹیٹ اینڈ لینڈ مینجمنٹ کے افسران پولیس کی نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور سکیم کو سربمہر کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم مبینہ طور پر ہزاروں فائلیں فروخت کر چکی تھی اور ترقیاتی کام بھی جاری رکھے ہوئے تھی، حالانکہ اس کے قانونی تقاضے مکمل نہیں تھے۔ ماضی میں بھی اسی نوعیت کی متعدد غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمیں اربوں روپے سمیٹ کر منظر سے غائب ہو چکی ہیں، جس سے عام لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی ڈوب گئی۔گزشتہ روز 25 فروری 2026 کو ایم ڈی اے کی انفورسمنٹ ٹیم، اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفورسمنٹ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اربن پلاننگ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ لینڈ مینجمنٹ اور دیگر متعلقہ افسران پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ ٹیم نے مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کا معائنہ کیا اور بالآخر سکیم کو سیل کر کے مزید فروخت و ترقیاتی سرگرمیاں روک دیں۔ بغیر این او سی اتنے عرصے تک سکیم کیسے کام کرتی رہی؟ کیا متعلقہ افسران کی غفلت یا مبینہ چشم پوشی شامل تھی؟ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف سکیم کے منتظمین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے بلکہ ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کا بھی احتساب کیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو شہریوں کو لوٹنے کا موقع نہ مل سکے۔ روزنامہ قوم کی مسلسل نشاندہی اور عوامی مفاد میں کی جانے والی رپورٹنگ اس کارروائی کی بنیادی وجہ بنی۔ شہری حلقوں نے اسے ذمہ دار صحافت کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میڈیا اسی طرح عوامی مسائل کو اجاگر کرتا رہے تو غیر قانونی ہاؤسنگ مافیا اور بدانتظامی کے خلاف مؤثر کارروائیاں ممکن ہو سکتی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں