2012 میں 9 نمبر چونگی پر سٹی ٹاور میں نقشے سے ہٹ کر دو اضافی فلور بنانے پرسابق ڈی سی او نے 3 کروڑ 95 لاکھ ، بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر 1 کروڑ 76 لاکھ جرمانہ کیا
این او سی جاری کرنے، پلازہ کو حتمی منظوری دینے پر پابندی عائد کردی گئی، باوجود کوشش پلازہ کو باقاعدہ بجلی کنکشن بھی نہ مل سکا،سابق ڈی جی زاہد اکرام سے بھی گفت و شنید ناکام
زاہد اکرام کے ٹرانسفر، دیگر افراد کے تبدیل ہونے پر ڈائریکٹر پلاننگ علی رضا اور انچارج انفورسمنٹ مولوی عمران نے سرکاری خزانے میں جرمانے کا ایک روپیہ بھی جمع نہ ہونے دیا
سٹی ٹاور انتظامیہ کو مکمل سہولت کاری دیتے ہوئے این او سی جاری کردیا گیا،میپکو حکام نے بھی ضابطے کی کارروائی کرکے بجلی کے کنکشن دے دیئے،کمشنر کا ریکارڈ قبضہ میں لینے کا حکم
هملتان( سٹاف رپورٹر) ایم ڈی اے کے دو افسران نے معمولی مفاد کے عوض ایم ڈی اے کو 5کروڑ 71 لاکھ کا نقصان پہنچا دیا۔ایم ڈی اے بائی لاز کی خلاف ورزی اور منظور شدہ بلڈنگ ڈیزائن سے ہٹ کر اضافی کنسٹرکشن کرنے کے جرم میں 12 سال قبل سابق ڈی سی اوملتان نسیم صادق کی طرف سے مجموعی طور پر5 کروڑ 71 لاکھ روپے سٹی ٹاور کو کیا گیا جرمانہ وصول کئے بغیر مبینہ طور پر 70 لاکھ کی ڈیل کے عوض ایم ڈی اے افسران نے 9 نمبر چونگی پر واقع سٹی ٹاور کی عمارت کو مکمل طور پر ڈھیل دے دی اور بجلی کے کنکشن کیلئے این او سی بھی جاری کردیا۔ ایم ڈی اے کے قائم مقام سربراہ اور کمشنر ملتان ڈویژن مریم خان نے ایک شکایت پر ایم ڈی اے کے دو افسران کیخلاف انکوائری شروع کروا کر تمام تر ریکارڈ قبضہ میں لینے کا حکم جاری کردیا ، تفصیلات کے مطابق 2012 میں 9 نمبر چونگی پر سٹی ٹاور کی تعمیر میں منظور شدہ نقشے سے ہٹ کر دو اضافی فلور بنانے پر سابق ڈی سی او نے سٹی ٹاور کو 3 کروڑ 95 لاکھ روپے جرمانہ کیا اور پھر بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر 1 کروڑ 76 لاکھ جرمانہ علیحدہ کیا اور مجموعی طور پر 5 کروڑ 71 لاکھ روپے جمع کروانے تک این او سی جاری کرنے اور پلازہ کو حتمی منظوری دینے پر پابندی عائد کردی جس کے بعد باوجود کوشش پلازہ کو باقاعدہ کنکشن بھی نہ مل سکا ،سٹی ٹاور اور انتظامیہ نے ہر فورم پر رجوع کیا مگر بات نہ بنی تو سابق ڈی جی ایم ڈی اے زاہد اکرام سے گفت و شنید شروع کردی گئی مگر سابقہ کمشنر اور سابقہ ڈپٹی کمشنر کوبھی زاہد اکرام نے این او سی جاری کرنے کے پراسس کا اپنے طور پر حصہ قرار دے کر ہرجانے کی رقم اچھی خاصی بڑھا دی اور معاملہ رک گیا۔ اس دوران زاہد اکرام ٹرانسفر ہوگئے اور دیگر افراد بھی بدل گئے تو ایم ڈی اے کے دو افراد جن میں ڈائریکٹر پلاننگ علی رضا اور انچارج انفورسمنٹ مولوی عمران نے سرکاری خزانے میں ایک روپیہ بھی جمع نہ ہونے دیا اور سٹی ٹاور انتظامیہ کو مکمل سہولت کاری دیتے ہوئے این او سی جاری کردیا جس کے بعد میپکو حکام نے بھی ضابطے کی کارروائی کرکے بجلی کے کنکشن دے دیئے، یاد رہے کہ سابق ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن امجد شعیب خان ترین نے بھی مولوی عمران کو کرپشن کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ کمشنر ملتان مریم خان نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب کو اس میگا سکینڈل سے آگاہ کرتے ہوئے انکوائری شروع کروادی ہے۔
سٹی ٹاور







