ایم ڈی ایم میں نمائشی عہدے، ایکسین 3 شعبوں کا ڈائریکٹر، اختیارات کسی اور کے پاس

ملتان (سپیشل رپورٹر)ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں انتظامی معاملات ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئے ہیں جہاں مبینہ طور پر ایک ایسی پالیسی نافذ کی گئی ہے جس نے ادارے کے اندر اختیارات اور ذمہ داریوں کو عجیب انداز میں تقسیم کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم ڈی اے میں نمائشی عہدوں اور عملی اختیارات کو الگ الگ افراد کے درمیان بانٹنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جس پر ملازمین اور شہری حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ڈی جی ایم ڈی اے کی جانب سے شعبہ انجینئرنگ کے ایکسین ہیڈ کوارٹر ابوبکر کو بیک وقت تین اہم شعبوں یعنی انجینئرنگ، ایڈمن اور فنانس کا ڈائریکٹر تعینات کر دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ تعیناتی ایک بڑے انتظامی فیصلے کے طور پر سامنے آئی ہے تاہم اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عملی طور پر ان شعبوں کے بیشتر معاملات کسی اور افسر کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق انجینئرنگ سے متعلق تمام اہم معاملات، منصوبوں کی نگرانی اور کمشنر و ڈپٹی کمشنر کی میٹنگز میں شرکت کے لیے ایکسین ون رانا وسیم کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ حیران کن طور پر وہی افسر جو ماضی میں شعبہ انجینئرنگ کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، اب بھی عملی طور پر زیادہ تر ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ ادارے کے اندر یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ ان سے صرف ڈائریکٹر کا عہدہ اور دفتر واپس لیا گیا ہے جبکہ کام بدستور انہی کے سپرد ہے۔ادارے کے ملازمین کے مطابق یہ صورتحال ایم ڈی اے میں ایک غیر واضح اور متنازع انتظامی ڈھانچے کی نشاندہی کرتی ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ جب اختیارات اور ذمہ داریاں الگ الگ افراد کے پاس ہوں تو نہ صرف فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے بلکہ جوابدہی کا نظام بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔مزید برآں ایم ڈی اے کے بعض ملازمین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ جس افسر کو تین اہم شعبوں کا ڈائریکٹر بنایا گیا ہے اس کی کارکردگی پہلے ہی سوالات کی زد میں رہی ہے۔ ملازمین کے بقول ایک ایسے افسر کو بیک وقت انجینئرنگ، ایڈمن اور فنانس جیسے حساس شعبوں کی ذمہ داری دینا ادارے کے انتظامی نظم و ضبط کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔شہری حلقوں اور ماہرین انتظامی امور کا کہنا ہے کہ ایم ڈی اے جیسے اہم ترقیاتی ادارے میں اس نوعیت کے فیصلے نہ صرف شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہیں بلکہ اس سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ادارے کے اندر واضح اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین نہ کیا گیا تو اس کا براہ راست اثر شہری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولیات پر پڑ سکتا ہے۔مبصرین کے مطابق اس معاملے نے ایک بار پھر ایم ڈی اے کے اندر انتظامی پالیسیوں اور تقرریوں کے طریقہ کار پر بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف حلقوں نے حکومت پنجاب اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور ادارے کے اندر شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں تاکہ ایم ڈی اے اپنی اصل ذمہ داری یعنی شہری ترقی اور عوامی خدمت کو مؤثر انداز میں انجام دے سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں