ایم فل، پی ایچ ڈی ریڈی میڈ تحقیق، ملتان میں شریف، بہاولپور میں طارق کا تھیسز نیٹ ورک

ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب میں اعلیٰ تعلیم کے معیار میں مسلسل گراوٹ سے متعلق سامنے آنے والے انکشافات نے ایک اور چونکا دینے والی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض سرکاری جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالوں کی تیاری اس حد تک غیر سنجیدہ انداز میں ہو رہی ہے کہ اب یونیورسٹیوں کے باہر بیٹھے چند افراد ہی درحقیقت سینکڑوں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے’’اصل مصنف‘‘ بن چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے باہر بیٹھا ایک شخص جسے عام طور پر’’شریف تھیسز والا‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے، مبینہ طور پر پورے ملتان کی جامعات کے مختلف شعبوں کے سینکڑوں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تھیسز تحریر کر چکا ہے۔ حیران کن طور پر حقیقت یہ بتائی جاتی ہے کہ ملتان سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے بہت کم طلبا و طالبات ایسے ہیں جنہوں نے اپنے تحقیقی مقالے مکمل طور پر خود تیار کیے ہوں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بہت کم اساتذہ اپنے ریسرچ سکالرز سے حقیقی معنوں میں تحقیقی کام کرواتے ہیں اور ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ چنانچہ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ متعدد طلبا و طالبات مجبوری یا سہولت کے تحت اپنے تھیسز یونیورسٹی کے باہر بیٹھے فری لانسرز سے لکھوانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملتان میں ’’شریف‘‘ کے علاوہ بھی چند دیگر افراد یہ خدمات فراہم کرتے ہیں جو مختلف مضامین میں تھیسز تیار کر کے دیتے ہیں۔ اسی طرز کا ایک نیٹ ورک اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اطراف میں بھی سرگرم بتایا جاتا ہے جہاں’’طارق تھیسز والے بھائی‘‘کے نام سے معروف شخص مبینہ طور پر پورے بہاولپور کے طلباو طالبات کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے لکھ کر دینے کی خدمات سرانجام دیتا ہے۔تعلیمی حلقوں میں طنزیہ انداز میں کہا جا رہا ہے کہ اگر حقیقتاً گنا جائے تو یہ شریف اور طارق جیسے افراد مختلف مضامین میں سینکڑوں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تھیسز لکھتے ہوئے خود بھی’’سینکڑوں ایم فل اور پی ایچ ڈی‘‘کر چکے ہیں۔ ماہرین تعلیم کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی نظام کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ اس سے تحقیقی معیار، علمی دیانت اور جامعات کی ساکھ پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اگر یونیورسٹیوں کے اندر تحقیق کی نگرانی کمزور ہو اور طلبہ کے تھیسز کی باقاعدہ جانچ نہ کی جائے تو اس کا فائدہ ایسے غیر رسمی’’تھیسز رائٹرز‘‘کو ہی پہنچتا ہے جو باآسانی اس خلا کو پُر کر دیتے ہیں۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی یونیورسٹیوں کے باہر بیٹھے افراد سینکڑوں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تھیسز لکھ رہے ہیں تو یہ صرف طلبہ کا نہیں بلکہ پورے نظامِ نگرانی، سپروائزری ڈھانچے اور امتحانی عمل کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ جامعات فوری طور پر اس صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں، تھیسز کی جانچ کے نظام کو سخت بنایا جائے اور سپروائزرز کی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ اعلیٰ تعلیم کے نام پر جاری اس غیر سنجیدہ رجحان کا سدباب کیا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں