ملتان (سٹاف رپورٹر) محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں فال 2024 داخلوں کے دوران فیسوں کی وصولی میں مبینہ طور پر 34 لاکھ روپے سے زائد کی خوردبرد کا معاملہ سامنے آیا، جس میں جعلی فیس واؤچرز، غیر قانونی نقد لین دین اور اختیارات کے کھلے عام ناجائز استعمال کا ایک منظم کھیل بے نقاب ہوا۔ روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی انکوائری رپورٹ کے مطابق اس سنگین مالی بے ضابطگی پر سابق وائس چانسلر ڈاکٹر طاہر سلطان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک بااختیار انکوائری کمیٹی تشکیل دی، جس نے بینک ریکارڈ، واؤچرز اور متعلقہ افراد کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں تین اہم ملزمان کو واضح طور پر نامزد کیا گیا، جن میں محمد ابراہیم، فہیم احمد اور 14 سال سے نویں وائس چانسلر کو رام کرنے والے عارضی اور تنہا کاریگر رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر کے سگے بھائی کامران عمر شامل ہیں۔ دستاویزی شواہد کے مطابق محمد ابراہیم کے ذاتی اکاؤنٹ میں 10 لاکھ 79 ہزار روپے، فہیم احمد کے اکاؤنٹ میں 4 لاکھ 44 ہزار روپے جبکہ رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر کے سگے بھائی کامران عمر کے اکاؤنٹ میں 10 لاکھ 20 ہزار روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز سامنے آئیں، جو ایک منظم مالیاتی فراڈ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ 77 فیس واؤچرز یا تو جعلی تھے یا ان کی بینک سے تصدیق ممکن نہ ہو سکی، جبکہ درجنوں واؤچرز پر جعلی بینک مہریں ثبت کی گئیں۔ اس پورے عمل میں نہ صرف مالیاتی نظم و ضبط کی دھجیاں اڑائی گئیں بلکہ سرکاری قواعد و ضوابط کو بھی یکسر نظر انداز کیا گیا۔ حیران کن طور پر یہ تمام کارروائیاں ایک ایسے ماحول میں ہوتی رہیں جہاں خزانچی کا دفتر کمزور، عملہ غیر مستقل اور نگرانی کا نظام تقریباً غیر فعال تھا۔ تاہم کہانی کا سب سے چونکا دینے والا پہلو اس وقت سامنے آیا جب اس انکوائری رپورٹ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے بجائے مبینہ طور پر دبا دیا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چونکہ نامزد ملزم کامران عمر، موجودہ رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر کے سگے بھائی ہیں، اس لیے مبینہ ملی بھگت کے تحت موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد توصیف ایزد نے اس رپورٹ کو سنڈیکیٹ سے مسترد کروا دیا۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ انکوائری کمیٹی ایک “ایکٹنگ وائس چانسلر” کے دور میں قائم کی گئی تھی، اس لیے اس کی رپورٹ قابلِ قبول نہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ محض ایک کمزور بہانہ ہے، جس کے ذریعے ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ تعلیمی حلقے اس فیصلے کو نہ صرف انصاف کا قتل قرار دے رہے ہیں بلکہ اسے ادارہ جاتی بدعنوانی کی کھلی سرپرستی بھی سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کروڑوں کے قریب عوامی فنڈز کی خردبرد پر بھی اس طرح پردہ ڈالا جائے گا تو پھر احتساب کا تصور محض ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔ یہ صورتحال موجودہ وائس چانسلر کی انتظامی صلاحیتوں اور غیر جانبداری پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ رہی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر خود پہلے ہی متعدد سنگین غیر قانونی کاموں کی زد میں ہیں۔ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی۔انکوائری کی دستاویزات کے مطابق ان کی تعیناتی اور پروموشنز میرٹ کے برعکس کی گئیں، مطلوبہ تدریسی و تحقیقی تجربہ پورا کیے بغیر اعلیٰ عہدوں پر ترقی حاصل کی گئی، جبکہ 14 سال سے زائد عرصے تک ایڈیشنل چارج پر رجسٹرار کے عہدے پر براجمان رہنا سپریم کورٹ کے احکامات اور سرکاری قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مزید برآں، 2018 کی بھرتیوں میں اپنے ہی بیان کے برعکس سلیکشن کمیٹی میں شرکت اور اپنے سگے بھائی کامران عمر کی تعیناتی اقربا پروری کی واضح مثال قرار دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر محمد عاصم عمر کے قریبی ذرائع کے مطابق 14 سال سے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں غیر قانونی کاموں کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں۔ یہ ڈائیلاگ بذات خود ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، چانسلر آفس کی ملی بھگت ہے یا پھر ڈاکٹر عاصم عمر کی طرف سے ان اداروں کو کھلی چنوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تمام شواہد ایک منظم نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں اختیارات کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ کیا اتنے بڑے مالیاتی اسکینڈل، واضح شواہد اور نامزد ملزمان کے باوجود بھی یہ معاملہ دبایا جاتا رہے گا، یا پھر حکومت پنجاب اور متعلقہ ادارے اس پر فوری اور غیر جانبدارانہ کارروائی کریں گے؟ تعلیمی حلقے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس کیس کو بھی ماضی کی طرح دبا دیا گیا تو نہ صرف ادارے کی ساکھ مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی بلکہ اعلیٰ تعلیم کے پورے نظام پر عوام کا اعتماد بھی ختم ہو جائے گا۔ اس بارے میں جب وائس چانسلر محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان سے پوچھا گیا کہ فیس واؤچر کی انکوائری کو صرف ایک ایکٹنگ وائس چانسلر کے ماتحت ہونے کی بنیاد پر مسترد کیا جا سکتا ہے اگر ایسا ہے تو ایکٹنگ وائس چانسل کے دور میں ہونے والے تمام تر اخراجات کو ریکور کیا جائے اور اتنے بڑے مالیاتی سکینڈل کو کن ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر دبایا گیا تو ان کا موقف تھا کہ یہ رپورٹ غلط ہے۔ دو تحقیقات کی گئیں، ایک اندرونی اور دوسری بیرونی۔ تمام ملزمان کو نوٹس جاری کیے گئے، جن میں ڈاکٹر عاصم عمر اور کامران عمر بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنے دفاعی جوابات جمع کروائے۔ دونوں تحقیقات کی رپورٹس اور ملزمان کے جوابات سنڈیکیٹ کے سامنے پیش کیے گئے، جس نے تمام معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا اور تحقیقات کے نتائج کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اس معاملے کی مزید گہرائی میں غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد کمیٹی کے ذریعے چھان بین کی جائے۔ یہ تحقیقات جاری ہیں اور اپنی رپورٹ آئندہ سنڈیکیٹ اجلاس میں پیش کریں گی۔ جو بھی ذمہ دار ہوں گے، ان کے خلاف قانون اور انصاف کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ موجودہ وائس چانسلر انصاف اور میرٹ کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں۔







