ملتان (سٹاف رپورٹر)میاں محمدنوازشریف یونیور سٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی ملتان میں فال 2024 کے داخلوں کے دوران فیسوں کی وصولی میں لاکھوں روپے کی مبینہ خردبرد کا سنگین اسکینڈل سامنے آ گیا ہے جس نے یونیورسٹی کے مالیاتی نظام، انتظامی ڈھانچے اور شفافیت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سرکاری تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ داخلہ فیس کی وصولی کے دوران مبینہ طور پر جعلی واؤچرز، غیر قانونی نقد لین دین اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے 33 لاکھ 43 ہزار 200 روپے کی خردبرد کی گئی جبکہ اس تمام معاملے میں انتظامی غفلت اور مبینہ اقربا پروری کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے 12 اگست 2025 کو ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جس میں MNS University of Agriculture Multan کے خزانچی کو کنوینر جبکہ Local Fund Audit Punjab اور The Women University Multan کے نمائندوں کو ممبر مقرر کیا گیا۔ کمیٹی نے یونیورسٹی کے ریکارڈ، بینک اسٹیٹمنٹس اور متعلقہ افراد کے بیانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کی جس میں انتہائی تشویشناک حقائق سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کے قائم مقام رجسٹرار Asim Umer نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے طلبہ سے فیس وصولی کے لیے سرکاری قواعد کے برعکس روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کو نقد رقم جمع کرنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ حکومتی ہدایات کے مطابق سرکاری اداروں میں عوامی فنڈز کی وصولی کے معاملات میں نقد لین دین کو محدود رکھنے کی سخت ہدایات موجود ہیں تاکہ فراڈ اور خردبرد کے امکانات کو ختم کیا جا سکے، تاہم ان ہدایات کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ یونیورسٹی کے خزانچی کے دفتر کو ابتدا سے ہی مضبوط نہیں کیا گیا اور وہاں مستقل بنیادوں پر پیشہ ورانہ عملہ تعینات نہیں کیا گیا۔ مالی معاملات عارضی اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کے ذریعے چلائے جاتے رہے جس کے باعث مالی نظم و ضبط انتہائی کمزور ہو گیا۔ یہاں تک کہ کیش بکس اور بینک اسٹیٹمنٹس کی باقاعدہ مطابقت بھی نہیں پائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق فال 2024 کے سمسٹر میں یونیورسٹی میں 419 طلبہ نے داخلہ لیا جبکہ ان میں سے 409 طلبہ امتحانات میں شریک ہوئے۔ تاہم بینک ریکارڈ کے ذریعے صرف 345 طلبہ کی فیس کی تصدیق ہو سکی جبکہ 77 طلبہ کے فیس واؤچرز مشکوک، جعلی یا غیر تصدیق شدہ پائے گئے۔ ان میں 48 واؤچرز پر جعلی بینک مہریں لگائی گئی تھیں جبکہ 4 طلبہ کی فیس کا کوئی ریکارڈ ہی دستیاب نہیں تھا۔ ان بے ضابطگیوں کی بنیاد پر تحقیقاتی کمیٹی نے مجموعی طور پر 33 لاکھ 43 ہزار 200 روپے کی مبینہ خردبرد کا انکشاف کیا ہے۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اس مبینہ اسکینڈل میں انجینئر فہیم احمد کو مرکزی کردار قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے طلبہ سے وصول کی گئی رقوم کو یونیورسٹی اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے بجائے مبینہ طور پر خردبرد کیا۔ مزید حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ اس واقعے کے سامنے آنے کے باوجود انہیں مارچ 2025 میں اسسٹنٹ (BPS-16) کے عہدے پر باقاعدہ تعینات کر دیا گیا حالانکہ وہ اس عہدے کے لیے مقررہ تعلیمی قابلیت اور تجربے کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انجینئر فہیم احمد کے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں 4 لاکھ 43 ہزار 900 روپے کی مشکوک رقم جمع ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ اسی طرح رجسٹرار کے حقیقی بھائی Kamran Umer کے بینک اکاؤنٹ میں 10 لاکھ 19 ہزار 960 روپے کی غیر معمولی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں جو ان کی معلوم آمدن کے ذرائع سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ رپورٹ کے مطابق فیس واؤچرز پر جعلی بینک مہریں لگانے اور رقم کی منتقلی کے عمل میں محمد ابراہیم اور ایک طالب علم حمزہ کے کردار کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک طالب علم کے بیان کے مطابق فیس واؤچرز پر جعلی بینک اسٹیمپ لگا کر انہیں اصل ظاہر کیا جاتا رہا جبکہ بعض رقوم ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ نقد فیس وصولی کے لیے انجینئر طارق محمود کے نام سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، مگر انہیں یہ نوٹیفکیشن کبھی باقاعدہ طور پر فراہم ہی نہیں کیا گیا اور انہوں نے اس ذمہ داری سے مکمل لاعلمی ظاہر کی۔ مزید برآں رپورٹ میں یہ سنگین انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات جیسے اہم انتظامی عہدوں پر مستقل بنیادوں پر تقرریاں نہیں کی گئیں اور انتظامی امور عارضی بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں۔ قائم مقام رجسٹرار Asim Umer گزشتہ نو سال سے زائد عرصے سے اضافی چارج پر فرائض انجام دے رہے ہیں حالانکہ سرکاری قوانین کے مطابق کسی بھی افسر کو چھ ماہ سے زیادہ اضافی چارج نہیں دیا جا سکتا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ مبینہ خردبرد میں ملوث افراد سے 33 لاکھ 42 ہزار 200 روپے کی رقم ریکور کی جائے اور ان کے خلاف Punjab Employees Efficiency Discipline and Accountability Act 2006 کے تحت سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاملے کو مزید تحقیقات کے لیے Anti-Corruption Establishment Punjab یا Federal Investigation Agency کے سپرد کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ کمیٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے خزانچی کے دفتر کو فوری طور پر مضبوط بنایا جائے، مستقل بنیادوں پر افسران تعینات کیے جائیں اور فیس وصولی کے لیے مکمل آن لائن نظام متعارف کرایا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی بدعنوانیوں کا سدباب کیا جا سکے۔ یہ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد تعلیمی حلقوں اور طلبہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت پنجاب فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کے ذریعے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں مالی بدعنوانی کا راستہ روکا جا سکے۔







