آج کی تاریخ

ایمر سن ؛ قانون کی دھجیاں ،ڈاکٹر رمضان اور رجسٹرار نے بغیر منظوری مختلف شعبے ضم کر دیئے

ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر ملتان کی سب سے پرانی درسگاہ گورنمنٹ کالج ملتان جسے کچھ سال پہلے ایمرسن یونیورسٹی ملتان کا درجہ دیا گیا کے ساری زندگی کا لائبریرین کا تجربہ رکھنے کے حامل وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان گجر کے یونیورسٹی میں مختلف ڈیپارٹمنٹس میں لیکچرز کی غیر قانونی سکروٹنیوں اور اقربا پروریوں اور منظور شدہ پوسٹوں سے ہٹ کر تعیناتیوں کے حوالے سے انکشافات سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی کو گجر کھڈا بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑنے کے مزید انکشافات سامنے آ گئے ہیں جس کے مطابق ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے 67 سالہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان گجر اور رجسٹرار محمد فاروق نے بغیر کسی منظوری کے ہی مختلف ڈیپارٹمنٹس کو آپس میں ضم کر دیا جس طرح سوشیالوجی اور سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ آپس میں مرج کیے جا چکے ہیں جبکہ سنڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق یہ بالکل علیحدہ ڈیپارٹمنٹ ہے۔ اسی طرح پولیٹیکل سائنس اور ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ بالکل مختلف ڈیپارٹمنٹ ہیں اور سنڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق بھی یہ بالکل علیحدہ ڈیپارٹمنٹ ہیں اسی طرح میتھ اور سٹیٹسٹکس ڈیپارٹمنٹ کو بھی آپس میں ضم کر دیا گیا ہے جبکہ حقیقت ان ڈیپارٹمنٹس کی منظوریاں صرف اور صرف ا کیڈمک کونسل کے ذریعے سنڈیکیٹ کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہے مگر 67 سالہ لائبریرین کے تجربے کے حامل ڈاکٹر محمد رمضان گجر جن کا یونیورسٹی کا تدریسی و انتظامی تجربہ بالکل نہ تھا نے سنڈیکیٹ کی منظوری کو بائی پاس کرتے ہوئے اپنے حکم کے مطابق ہی یونیورسٹی کے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ان سب ڈیپارٹمنٹس کو آپس میں ضم کر دیا جس کا تمام تر فائدہ ان کو بذات خود اور ان کے عزیز و اقارب کو ہو گا۔ اس بارے میں موقف کے لیے جب ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے نا اہل اور ہاسٹل میں طلباء کی جانب سے غیر اخلاقی حرکات کی شکایات کے حامل پی آر او ڈاکٹر محمد نعیم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے حسب معمول کوئی جواب نہ دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں