ایمرسن: ہراسمنٹ میں ملوث عرفان جاوید کے 50 غیر ملکی دورے، چھٹی نا این او سی رجسٹرار محافظ

ملتان (وقائع نگار) ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں اندھیر نگری چوپٹ راج، ڈاکٹر فاروق غیر قانونی رجسٹرار خود کو راجہ اندر سمجھنے لگے۔ہراسمنٹ کے کیسز کا رخ موڑنے کے بعدہراساںنے والی خواتین کو پریشرائز کیا۔ اساتذہ کے خلاف جھوٹی درخواستیں اور اپنا گروپ بنایا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے دست راست عرفان جاوید اسسٹنٹ پروفیسر کامرس جو کہ خواتین اساتذہ کی ہراسمنٹ میں ملوث ہیں کو بچانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنے لگے۔ عرفان جاوید اسسٹنٹ پروفیسر کامرس کے غیر ممالک کے غیر قانونی بغیر این او سی اور چھٹی کے ٹرپس لگانے کے بعد غیر قانونی رجسٹرار عرفان جاوید کے غیر قانونی باہر کے ممالک کے ٹرپس کو تحفظ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہراسمنٹ میں ملوث ڈاکٹر عرفان جاوید کے غیر قانونی اور مختلف ممالک کے ٹرپس کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیاجو کہ نہ صرف حیران کن ہے بلکہ اس نظام اور اقربا پر وری، دھوکا دہی اور ایمرسن یونیورسٹی کی ایڈمنسٹریشن، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، منسٹر ہائر ایجوکیشن، PHEC اور اس کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایف آئی اے کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیئےہیں ۔ہراسمنٹ میں ملوث ڈاکٹر عرفان جاوید نے 26 مارچ2024 کو ایمرسن یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر جوائن کیا اور اس کے بعد تقریباً 10 کے قریب مختلف ممالک کے ٹرپس کئےجو کے بغیر این او سی بغیر چھٹی منظوری کے لگائے گئے۔ ہر ٹرپ کا دورانیہ 10 سے 12 دن تھا جس سے تقریباً موصوف نے 120 دن ایمرسن یونیورسٹی میں حاضر رہتے ہوئے مختلف ممالک کا دورہ کیا۔جو کہ قانون کے منہ پر طمانچہ اور اس کے ساتھ ساتھ رجسٹرار کے گٹھ جوڑ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔مختلف ممالک میں گزارے گئے 120 دن اور ایمرسن سے فل تنخواہ حاصل کرنے کی تفصیل درج ذیل ہے۔نو مارچ 2024 لاہور سے دبئی اور 13 مارچ 2024 کو واپس،11 اپریل 202 کو لاہور علامہ اقبال ایئرپورٹ سے تھائی لینڈ روانہ اور 14 مئی 2024 کو واپسی ، 11 مئی کو کولمبو سری لنکا، 14 مئی کو واپسی، 13 اگست 2024 کوتھائی لینڈ روانگی اور 19 اگست کو واپسی ، 24 اگست 2024 تھائی لینڈ روانگی اور 30 اگست کو واپسی، دو نومبر 2024 تھائی لینڈ روانگی اور آٹھ نومبر کو واپسی، آٹھ مارچ 2025 کوتھائی لینڈ روانگی، 14 مارچ 2025 کو واپسی، 27 اپریل 2025 کوتھائی لینڈ روانگی اور چار مئی 2025 کو تھائی لینڈ سے واپسی ہوئی۔تمام ٹرپس کے لیے علامہ اقبال ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے۔اس کے علاوہ عرفان جاوید کے کابل افغانستان، چائنہ، ملیشیااور مختلف ممالک کے تقریباً 50 کے قریب ٹرپس ہیں۔ ایک ادارے میں ملازم ہونے کے باوجود وہاں حاضر ہونا اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں موجود ہونا نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے منہ پر طمانچہ ہے بلکہ یہ سوالیہ نشان بھی چھوڑتا ہے کہ ایسے کون سے مقاصد ہیں کہ بغیر چھٹی لیے بغیر این او سی لیےوہ مختلف ممالک کے ٹرپس لگاتےرہےجس میں تھائی لینڈ سرفہرست ہے۔اگر تھائی لینڈ کی بات کی جائے تو تھائی لینڈ مختلف خرافات غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔ یہاں منسٹر ہائر ایجوکیشن اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست کی جاتی ہے کہ ان غیر قانونی ٹرپس کا نوٹس لیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ان سے ان تمام دنوں کی تنخواہیں واپس لے جائیں اور پیڈا ایکٹ کہتا ہے کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کو تحفظ دینے والے ایمرسن یونیورسٹی میں سیاست کی بنیاد رکھنے والے، ہر غیر قانونی سلیکشن میں پیسے بٹورنے اور رشوت حاصل کرنے کے طرہ امتیاز رکھنے والے غیر قانونی رجسٹرار کے خلاف ایکشن لیا جائے اور اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی رجسٹرار ڈاکٹر فاروق نے ساتویں سینڈیکیٹ کے منٹس میں ہیرا پھیری کی جن کے ثبوت ’’قوم ‘‘حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جلد ہی منٹس کی کاپی اور ان ثبوت کے ساتھ غیر قانونی رجسٹرار کے اوچھے ہتھکنڈوں کو بھی بےنقاب کرے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں