ایمرسن: وی سی رمضان گجر کی غیر قانونی سلیکشن کمیٹی کی دھاندلی، نوکریوں کی بندر بانٹ

ملتان (سہیل چوہدری سے) گورنمنٹ ایمرسن یونیورسٹی میں غیر قانونی تقرریوں کی بھر مارہوگئی۔ ٹیسٹ لئے بغیردرجنوں اُمیدواروں سے مبینہ طور پر بھاری معاوضہ لے کر اور چند رشتے دار کے بچوں کو تعینات کر لیا ۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے غیر قانونی سلیکشن کمیٹی بنا کر 26 کلرک ،تین کمپیوٹر آپریٹر ،چار ٹیچنگ اسسٹنٹ اور چار اسسٹنٹ بھرتی کر لئے۔ تفصیل کے مطابق گورنمنٹ ایمرسن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر رمضان گجر کی ہدایت پر رجسٹرار ایمرسن یونیورسٹی محمد فاروق نے ملازمین کی تعیناتی کے لیے جو سلیکشن کمیٹی بنائی تھی اس کے تمام ممبر بھی اپنی پسند کے رکھے تھے ۔ملازمین کی تعیناتی کے لیے جو سلیکشن کمیٹی بنائی گئی اس میں کسی ممبر کو باہر سے نہ بلایا گیا ۔سلیکشن کمیٹی کے ممبران میں کنٹرولر آفتاب خان خاکوانی جس کی اپنی تقرری غیر قانونی ہے۔ لیکچرار وردہ وہ پہلے رجسٹرار فاروق کے ساتھ سرگودھا یونیورسٹی میں تعینات تھیں۔ ڈپٹی رجسٹرار اسحاق جو سلیکشن کمیٹی کےممبر نہیں بن سکتے۔ سلیکشن کمیٹی میں نہ تو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے کسی نمائندے کو بلایا گیا اور نہ ہی کسی دوسری یونیورسٹی کے کسی ایکسپرٹ کو کمیٹی میں شامل کیا گیا۔ وائس چانسلر رمضان گجر نے مذکورہ سلیکشن کمیٹی کی سنڈیکیٹ کمیٹی سے منظور ی بھی نہیں لی ۔وائس چانسلر کے سیکرٹری شفقت عباس کے بھانجے عمار یاسر کو بھرتی کیا گیا۔ آر او ڈاکٹر ریحان کے رشتے دار مہدی کو تعینات کیا گیا جبکہ اس نے ٹیسٹ میں شرکت ہی نہیں کی تھی۔ کنٹرولر امتحانات آفتاب احمد خاکوانی نے اپنے سالے سلمان خاکوانی ،آفتاب کے گھر ملازمت کرنے والی خاتون کے بیٹے کو بھی بھرتی کیا گیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جن مستقل اسامیوں پر ملازمین کی تعیناتی کی گئی ان سے کسی قسم کا کوئی ٹیسٹ نہیں لیا گیا جبکہ دوسری جانب چند روز قبل 15 ڈیلی ویجز پر کلرک بھرتی کرنے کے لیے ان سے نہ صرف ٹائپ ٹیسٹ کیا گیا بلکہ اس ٹیسٹ کو ویلوایٹ کرنے کے لیے دو ایکسٹرنل ایکسپرٹ ایک بہاالدین زکریا یونیورسٹی اور ایک محمد نواز شریف ایگریکلچر یونیورسٹی سے بلایا گیا تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں