ملتان(سٹاف رپورٹر)بیک وقت دو ایل پی جی باؤزر اور ایک کاربن ڈائی آکسائیڈ(Co2)سے بھرا ٹینکر پھٹنے کا دنیا بھر میں رونما ہونے والا یہ انوکھا سانحہ ہے اور یہ ایل پی جی سے بھرے باؤزر میں سے تین سے چار ٹن ایل پی جی نکال کر Co2کی ملاوٹ کرتے ہوئے دھماکا ہوا ۔روزنامہ ’’قوم‘‘ ایل پی جی میں Co2 کی ملاوٹ کی خبر شائع کر چکا ہے مگر اوگرا اور ضلعی انتظامیہ کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور کئی جانیں چلی گئیںاورمتعددافرادجھلس کرزخمی ہوگئےہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ ایل پی جی کی قیمت 280 روپے سے 300 روپے کلو ہے جبکہ Co2 کی قیمت 50 سے 60 روپے فی کلو ہے اور اس ملاوٹ سے فی باؤزر چھ سے سات لاکھ روپے کمایا جاتا ہے۔ اس گھنائونے دھندے کا سرغنہ شجاع آباد کا رہائشی مرتضیٰ ہے اور علی خان نامی شخص اس کا پارٹنر ہے۔ اس گینگ نے سندھ، بلوچستان اور پنجاب میںCo2کی مکسنگ کے پوائنٹ بنا رکھے ہیں جہاں سے متعلقہ اضلاع کی پولیس اور انتظامیہ کو مبینہ طور پر لاکھوں روپے ماہانہ فی پوائنٹ بھتہ جاتا ہے۔ مرتضیٰ اور علی خان نے باقاعدہ طور پر شوٹر بھرتی کر رکھے ہیں جو کسی بھی وقت فائرنگ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور ملتان کا محکمہ سول ڈیفنس باقاعدہ اس گروہ سے خوف کھاتا ہے جبکہ پولیس اس گروہ سے بہت سے مفادات لیتی ہے۔مرتضیٰ گینگ نے سندھ میں 11 پوائنٹس بنا رکھے ہیں جہاں ایل پی جی میں Co2کی ملاوٹ کی جاتی ہے جبکہ ملتان سمیت پنجاب میں ان کے چار پوائنٹ ہیں اور بلوچستان میں تین پوائنٹ ہیں جہاں چار دیواریاں بنی ہوئی ہیں اور جام شورو پارکو و دیگر آئل ریفائنریز کے علاوہ سمگلنگ کے ذریعے آنے والے 80 فیصد ایل پی جی باؤزرز میںCo2 کی ملاوٹ کی جاتی ہے۔ روزنامہ قوم کو ملنے والی معلومات کے مطابق یہ 10 کروڑ روپے روزانہ سے زائد کا سیا ہ دھنداہے جس پر سندھ ،پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں نے کبھی بھی توجہ نہیں دی ۔بتایا گیا ہے کہ جن باؤزر سے Co2کی ملاوٹ کی جا رہی تھی وہ پار کو مظفرگڑھ سے ایل پی جی لے کر ملتان آئے تھے اور یہ دونوں باؤزر ایک شخص رحمت نامی ایل پی جی ٹرانسپورٹر کے تھے جبکہ Co2 کا باؤزر مرتضیٰ اور علی خان کا تھا جو ملک بھر میں ملاوٹ کا گھنائونا کاروبار کرتے ہیں۔






