ملتان ( سٹاف رپورٹر ) ایف بی آر کے کسٹم ونگ کو اپنی گرفت میں لے کر مکمل مفلوج کرنے والی تین جونیئر خواتین افسران کی سکہ شاہی ملکی ریونیو کو لے کر تیزی سے ڈوب رہی ہے ۔ کلیکٹر ایئرپورٹ پنجاب زون طیبہ معید کیانی نے روزنامہ قوم میں اربوں روپے کی اس کرپشن کہانی کی اشاعت کی ذمہ داری اپنےاستے کی رکاوٹ ڈی سی ایئرپورٹ لاہور مدثر رفیق پر ڈالتے ہوئے صرف ایک ٹیلیفون کال پر ایک گھنٹے کے اندر اندر لاہور ایئرپورٹ سے ہٹا کر سیالکوٹ بھجوا دیا ہے اور اب لاہور ایئرپورٹ مکمل طور پر حنا گل اور فیصل کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔ تانیہ نامی ڈپٹی کلیکٹر نے اپنی چند ماہ کی تعیناتی کے دوران تقرری اور تبادلوں کی مجموعی طور پر 175 سے زائد سفارشیں کیں اور تمام کی تمام عمل درآمد کے مرحلے سے گزریں۔ جس آفیسر اور اہلکار کو جہاں پوسٹ کرنے کی سفارش ڈپٹی کلکٹر تانیہ نے کی، ممبر کسٹم جنید جلیل نے من و عن ان سفارشات کو تسلیم کیا اور تقرری و تبادلوں کے احکامات جاری کر دیئے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان میں کسٹم انسپکٹرز، سپرنٹنڈنٹ سے لے کر کلیکٹر تک کے افسران شامل ہیں اور مزید توجہ طلب امر یہ ہے کہ اس وقت کسٹم میں ایک سپرنٹنڈنٹ کے تبادلے کا ریٹ 25 سے 30 لاکھ روپے ہے۔ اب اس بنیادی اکائی کو 175 سے ضرب دیں تو اتنے روپے بنتے ہیں کہ اسلام آباد کے ڈیپلومیٹک انکلیو میں 7، 8 لاکھ روپے ماہانہ کرائے کی رہائش گاہ بآسانی لی جا سکتی ہے۔ فیصل نامی انسپکٹر جو کہ طیبہ معید کیانی کلیکٹر ایئرپورٹس پنجاب زون کے ساتھ ان کی سابقہ پوسٹنگ میں ان کے ماتحت انٹیلی جنس میں ڈیوٹی دیتا تھا، اسے لاہور ایئرپورٹ کا ریکوری ماسٹر لگایا گیا ہے ۔ فیصل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے گہرے روابط حفیظ سنٹر لاہور اور ہال روڈ لاہور کے موبائل، موبائل اسیسریز، لیپ ٹاپ، ٹیب اور الیکٹرانکس کی اشیا کی سمگلنگ کروانے والوں سے ہیں اور اس مقصد کیلئے انہوں نے اپنے پھیرے باز بھی رکھے ہوئے ہیں جنہیں کسٹم کی مہذب زبان میں “پروٹوکول پیسنجر” کا نام دیا جاتا ہے جبکہ پھیرے بازوں کی زبان میں انہیں’’ کھیپیا ‘‘کہتے ہیں کیونکہ وہ سامان کی کھیپ لے کر آتے ہیں۔ اور ان سارے کے سارے کھیپیوں کی پاکستان آمد کی تمام تر تفصیلات فیصل انسپکٹر کے پاس ہوتی ہیں جو کہ روزانہ کی بنیاد پر کلیکٹر ایئرپورٹ پنجاب زون طیبہ معید کیانی کو رپورٹ کرتا ہے۔ ان کھیپیوں کا ایک گروپ لاہور اور سیالکوٹ ایئرپورٹس کے ذریعے پنجاب اور وفاق کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں سلاد و دیگر امپورٹڈ پھل بھی منگواتا ہے۔ فیصل آباد ایئرپورٹ شعبہ کسٹم سمگلنگ کے انچارج چوہدری سعید کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں بھی طیبہ معید انٹیلی جنس ونگ سے اپنے ساتھ لے کر آئی ہیں۔ ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ اور لاہور ایئرپورٹس کے ذریعے ان دنوں ہر فلائٹ میں غیر ملکی شراب کی کھیپ آ رہی ہے اور غیر ملکی شراب کی بوتلیں وصول کرنے والے فلائٹ کے اترنے سے پہلے ہی ایئرپورٹ پر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بعض سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیاں بھی جہاز کے اترنے سے پہلے ہی موجود ہوتی ہیں ۔






