ملتان (وقائع نگار)ایف بی آر میں ریوارڈز کی بے ضابطگی کا انکشاف: 48 کروڑ 44 لاکھ روپے قواعد کے خلاف تقسیم وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کسٹمز افسران، اہلکاروں اور انفارمرز کو 48 کروڑ 44 لاکھ روپے سے زائد کا کیش انعام (ریوارڈ) قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تقسیم کر دیا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی رپورٹ میں اس سنگین بے ضابطگی کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے دوران ایف بی آر کے ہیڈ کوارٹرز اور اس کے 22 فیلڈ آفسز نے 40 کیسز میں افسران و اہلکاروں کو ریوارڈز دیے، جو قانون اور ریوارڈ رولز کے بالکل خلاف تھے۔ ریوارڈز کے قواعد کے تحت صرف “غیر معمولی کارکردگی” (meritorious services) کی بنیاد پر ہی انعام دیا جا سکتا ہے، مگر آڈٹ میں پایا گیا کہ ان کیسز میں میرٹ کا تعین نہیں کیا گیا۔آڈیٹر جنرل نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ ریوارڈز کی ادائیگی کے نظام کو سخت پابندی سے عمل میں لایا جائے اور مقررہ معیار کی نگرانی کی جائے۔ اس کے علاوہ، 40 افسران و اہلکاروں سے فوری طور پر غیر قانونی طور پر دیے گئے ریوارڈز کی واپسی (ریکوری) کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ایف بی آر کا موقف ہے کہ یہ انعامات بورڈ کی منظوری کے بعد افسران کی “نمایاں کارکردگی” کی بنیاد پر دیے گئے تھے۔ تاہم، آڈیٹر جنرل نے اس وضاحت سے اتفاق نہیں کیا اور اسے رولز کی خلاف ورزی قرار دیا۔ذرائع کے مطابق، متعدد افسران نے ریوارڈ نہ ملنے کی شکایات متعلقہ فورمز پر درج کرائی ہیں۔ ان شکایات کے تناظر میں ایف بی آر نے ایک خصوصی آڈٹ ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ یہ ٹیم ابتدائی طور پر لاہور، ملتان اور کوئٹہ کے علاقوں میں آڈٹ کرے گی۔ آڈٹ ٹیم کو تین ہفتوں کے اندر مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ایف بی آر نے اب تقسیم کیے گئے 48 کروڑ 44 لاکھ روپے سے زائد کی رقم کا خصوصی آڈٹ شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط استعمال یا بے ضابطگی کا پتہ چلایا جا سکے اور متعلقہ افراد سے ریکوری کی جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری خزانے سے ریوارڈز کی ادائیگی ایک حساس معاملہ ہے اور اس میں شفافیت اور میرٹ کا مکمل خیال رکھنا ضروری ہے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے ایف بی آر کے اندرونی کنٹرول سسٹم پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔یہ واقعہ حکومت کی جانب سے ریونیو اکٹھا کرنے اور محکموں میں احتساب کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے دوران سامنے آیا ہے، جس سے ایف بی آر پر مزید ذمہ داری عائد ہو گئی ہے کہ وہ نہ صرف ریکوری یقینی بنائے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات بھی کرے۔







