ایف ایس سی کے بعد نئی آزمائش، انٹری ٹیسٹ مافیا نے تعلیم کو کاروبار بنا لیا، اربوں کمائی

ملتان(سٹاف رپورٹر) صوبہ بھر میں یونیورسٹیوں، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کے نتیجے میں ایک نیا تعلیمی کاروبار جنم لے چکا ہے، جہاں انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے نام پر نجی اکیڈمیاں اور پرائیویٹ کالجز والدین سے لاکھوں روپے سمیٹ رہے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کے والدین جو اپنے بچوں کو ایف ایس سی تک پہنچانے کے لیے پہلے ہی ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے خرچ کر چکے ہوتے ہیں، اب ان پر ایک اور ’’انٹری ٹیسٹ‘‘ کا مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف ایس سی کی سالانہ فیسیں، بورڈ اخراجات، کتابیں اور ٹیوشن کی مد میں خطیر رقم خرچ کرنے کے بعد طلبہ کو یونیورسٹی داخلوں کے لیے الگ سے انٹری ٹیسٹ دینا پڑتا ہے۔ اس ٹیسٹ کی تیاری کے نام پر نجی اکیڈمیاں دو سے تین ماہ کے کورس کے لیے فی طالبعلم 40 سے 50 ہزار روپے تک وصول کر رہی ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ یہ فیسیں کسی سرکاری ریگولیشن کے بغیر من مانے انداز میں وصول کی جا رہی ہیں۔ صوبے بھر میں قائم نجی ادارے اس وقت تنقید کی زد میں ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ملتان کی صرف ایک اکیڈمی میں تقریباً 15 ہزار طلبہ سے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے فی کس 40 سے 50 ہزار روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اگر ان اعداد و شمار کو جمع کیا جائے تو کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کا کاروبار بنتا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ایف ایس سی کے امتحانات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئے اور اکیڈمیوں نے داخلے شروع کر کے “لوٹ مار کا بازار” گرم کر رکھا ہے۔ والدین کا سوال ہے کہ جب انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں زیادہ تر ٹیسٹ کمپیوٹرائز ہو چکے ہیں اور نصاب ایف ایس سی کی کتابوں پر مبنی ہے تو پھر الگ سے مہنگی تیاری کی کیا ضرورت ہے؟ ان کا مؤقف ہے کہ یہ پورا نظام ایک منظم کاروباری ماڈل کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں طلبہ کی مجبوری کو کیش کرایا جا رہا ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسی سازی میں شفافیت نہ ہونے اور ریگولیٹری میکنزم کی کمزوری کے باعث نجی ادارے بے لگام ہو چکے ہیں۔ اگر ایف ایس سی کے نتائج ہی میرٹ کا بنیادی معیار ہیں تو پھر اضافی انٹری ٹیسٹ کیوں؟ اور اگر انٹری ٹیسٹ ضروری ہے تو اس کی تیاری کے نام پر فیسوں کی کوئی حد مقرر کیوں نہیں؟ متاثرہ والدین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں، انٹری ٹیسٹ پریپریشن اکیڈمیوں کی فیسوں کا باقاعدہ آڈٹ کرائیں اور ایک واضح پالیسی مرتب کریں تاکہ غریب والدین مزید معاشی استحصال کا شکار نہ ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم اب مکمل طور پر ایک منافع بخش صنعت بن چکی ہے؟ اور کیا ریاست غریب والدین کو اس “دوہری فیس” کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھائے گی؟ یہ معاملہ نہ صرف تعلیمی نظام کی ساکھ بلکہ سماجی انصاف کے تقاضوں پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں