ایف آئی اے ،کی موٹے کے ذریعے موٹی ڈیل شریف اوڈھ گینگ کو آن لائن فراڈ کا لائسنس

ایف آئی اے ،کی موٹے کے ذریعے موٹی ڈیل شریف اوڈھ گینگ کو آن لائن فراڈ کا لائسنس

ملتان(سٹاف رپورٹر)جنوبی پنجاب میں آن لائن نیشنل اور انٹرنیشنل فراڈ میں ملوث اوڈھ برادری کے سرغنہ شریف اوڈھ المعروف سیپا اوڈھ کو چند دن کی غیر قانونی حراست راس آگئی اور اسے ایف آئی اے کے بعد دیگر سرکاری اداروں کی بھی سرپرستی حاصل ہو گئی ہےجس کے بعد اس کی زیر سرپرستی کام کرنے والے 15 سے زائد اوڈھ برادری پر مشتمل گینگ کھل کر کھیل رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پہلے یہ چھپ چھپا کر آن لائن فراڈ کرتے تھے اور ایف آئی اے و پولیس کے ہاتھوں پریشان رہتے تھے پھر ایف آئی اے کی طرف سے غیر سرکاری طور پر نامزد ٹاؤٹ سلمان سلطان عرف سلمانا موٹا کے ذریعے شریف اوڈھ کی ڈیل ایک ڈائریکٹر ایف آئی اے سے ہوگئی۔اب شریف اوڈھ کے تمام گینگز جنوبی پنجاب میں کھل کر کھیل رہے ہیں۔ سلمان سلطان عرف سلمانا موٹا بارے بتایا گیا ہے کہ اسے ایف آئی اے کا سرکاری ڈالہ 24 گھنٹے استعمال کیلئے دیا گیا ہے اور ایف آئی اے کےایک آفیسر پبلک سکول روڈ پر ایک انتہائی قیمتی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کی طرف سے عطیہ شدہ گیسٹ ہاؤس میں کئی ماہ سے قیام پذیر ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ سلمان سلطان عرف سلمانا موٹا کے ذریعے ڈیل کے بعد شریف اوڈھ گینگ کے لوگ اتنے بے خوف ہو گئے ہیں کہ انہوں نے میاں چنوں میں ایف آئی اے کے عملے پر حملہ کر کے انہیں زدوکوب کیا مگر باخبر ذرائع کے مطابق اس معاملے میں بھی ٹائوٹ سلمان سلطان عرف سلمانا موٹا کے ذریعے ڈیل ہو گئی جس کے بعد مقدمے کی تفتیش میں ملزمان کو بتدریج سہولت ملنے لگی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد کے ایک ادارے سےمتعلقہ آفیسر نے بھی شریف اوڈھ کو چند دن مہمان رکھ کر رہا کر دیا اور اب وہ نجی محفلوں میں دن رات مذکورہ آفیسر سمیت دیگر افسران سے اپنے تعلقات کی ڈینگیں مار کر اعلیٰ افسران اور اہم سرکاری محکموں کی ورکنگ کو بدنام اور بے نقاب کر رہا ہے اور اس حد تک کھل کر بات کرتا ہے کہ ان افسران کی نجی زندگی کے پردے بھی چاک کر دیتا ہے جس کی ریکارڈنگ بھی ایک ذریعے کے پاس محفوظ ہے ۔چند سال قبل آئی بی کے ایک آفیسر نے کئی دن لگا کر آن لائن فراڈ ، جعلی اے ٹی ایم اور سلیکون کے نشان انگوٹھے بنا کر بینکوں سے ہزاروں لوگوں کے اکاؤنٹ سے کروڑوں روپے چوری کرنے والے ایک گینگ کا نیٹ ورک پکڑا تھا اور پھر اس نیٹ ورک کے ملزمان کو ایف آئی اے کے حوالے کیا مگر صرف 20 دن میں ایف آئی اے اسلام آباد میں تعینات ایک خاتون آفیسر اس گینگ کی بذریعہ شریف اوڈھ ڈیل ہو گئی اور مصدقہ ذرائع کے مطابق یہ ڈیل صرف 15 لاکھ روپے میں ہوئی اور پھر رہائی کے بعد یہ گینگ کبھی بھی ایف آئی اے کے ہاتھ نہیں آیا ۔یہ گینگ بھی ذرائع کے مطابق اب ایف آئی اے کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے اور ضلع وہاڑی کا رہائشی ایک ایف آئی اے اہلکار کار اس گینگ کا سہولت کار ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں