ملتان(سپیشل رپورٹر) ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم سے متعلق انکشافات نے شہریوں میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ چند روز قبل۔اس سے تاثریہ ظاہرہوتاہے کہ ڈائریکٹر ٹائون پلاننگ عنائزہ حرااورڈپٹی ڈائریکٹرراشدکھوکھرکی مکمل مخفی سہولت کاری جاری ہےیہی وجہ ہے کہ موقع پرزمین اتنی موجودنہیں جتنی وہ فائلیں فروخت کرچکے ہیں۔ تاہم زمینی حقائق اس
کارروائی کی افادیت پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایم ڈی اے نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر پراجیکٹ کو سیل کیا تھا لیکن انویسٹی گیشن ٹیم کے موقع پر پہنچنے تک پراجیکٹ مبینہ طور پر ڈی سیل ہو چکا تھا اور کھلے عام فائلوں کی فروخت جاری تھی۔ حیران کن طور پر متعلقہ حکام کے بیانات اور عملی صورتحال میں واضح تضاد سامنے آیا۔ڈائریکٹر اربن ٹاؤن پلاننگ میڈم عنائزہ حرا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پراجیکٹ تاحال سیل ہے۔ اسی طرح ڈپٹی ڈائریکٹر راشد کھوکھر نے بھی تصدیق کی کہ سکیم سیل شدہ ہے اور ایسٹرن ہاؤسنگ کو ابھی تک کوئی این او سی جاری نہیں ہوا۔ تاہم جب حکام کو وہ ویڈیو شواہد دکھائے گئے جن میں پراجیکٹ کی ڈی سیل شدہ حالت اور فروخت کی سرگرمیاں نمایاں تھیں تو حکام کی جانب سے واضح جواب دینے سے گریز کیا گیا۔شہری حلقوں اور ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اگر کوئی پراجیکٹ سرکاری طور پر سیل ہو تو اس کی ڈی سیلنگ ایک باقاعدہ قانونی عمل کے تحت ہونی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق غیر قانونی ڈی سیلنگ کی صورت میں نہ صرف ذمہ دار اہلکاروں بلکہ ڈی سیلنگ میں سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے۔مزید برآں ایسٹرن ہاؤسنگ کے سیلز ڈائریکٹر سے رابطے پر دیا گیا بیان بھی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا:’’چلتا ہے، ہر جگہ ایسا ہی ہوتا ہے، پیسے سے ہر کام ممکن ہے، زیادہ سے زیادہ جرمانہ ہی ہو سکتا ہے۔‘‘یہ بیان نہ صرف ریگولیٹری نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے بلکہ شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی خطرے کی گھنٹی سمجھا جا رہا ہے۔ایسٹرن ہائوسنگ کے مالک عبدالصمد روزنامہ قوم میں خبرکے انکشاف پرگزشتہ روزلاہورسےبھاگم بھاگ ملتان پہنچ گئے اورایم ڈی اے سے معاملہ منیج کرنے کی کوششیں تیزکردیں۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ محدود اراضی پر زیادہ فائلوں کی فروخت اور این او سی کے بغیر سرمایہ کاری عام خریداروں کے لیے مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ خریداروں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واضح کریں کہ آیا پراجیکٹ قانونی حیثیت رکھتا ہے یا نہیں۔یاد رہے کہ ماضی میں خانیوال روڈ پر واقع’’چیز اپ‘‘پراجیکٹ کو بھی این او سی نہ ہونے پر سیل کیا گیا تھا اور این او سی کے اجرا تک پراجیکٹ سیل ہی رہا جسے ماہرین ایک مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔سول سوسائٹی، متاثرہ شہریوں اور ماہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب اور کمشنر ملتان سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی سطح پر ملی بھگت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر پراجیکٹ واقعی سیل ہے تو فروخت کیسے جاری ہے؟ اور اگر ڈی سیل ہوا ہے تو کس کے حکم پر؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات شہری جاننا چاہتے ہیں۔







