ملتان(سپیشل رپورٹر) ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم میں مبینہ غیر قانونی کارروائیوں نے شہریوں میں سوالات کی لہر پیدا کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق 31 جنوری کی رات تقریباً ایک بجے، منصوبے کے کچھ حصوں پر سیل کیا گیا، مگر بعدازاں روزنامہ قوم کی نشاندہی پر ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) نے تصدیق کی کہ سیل واقعی کیا گیا تھا۔تاہم قوم ٹیم کی وزٹ پر معلوم ہوا کہ سیل ڈی سیل کر دیا گیا۔ عوامی نشاندہی پر 24 فروری کو دوبارہ کارروائی کرتے ہوئے سیل کر دیا گیا، جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر 31 جنوری کو سیل کیا گیا تھا تو 24 فروری کو دوبارہ کارروائی کیوں ضروری ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک مبینہ ڈیل کے تحت کیا گیا تھا۔ایک اور پہلو جو عوام کو پریشان کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایم ڈی اے کی سوشل میڈیا ویب سائٹس، جہاں ہر کارروائی اپ لوڈ کی جاتی ہے، پر نہ تو 31 جنوری کی اور نہ ہی 24 فروری کی کارروائی کی معلومات اپ لوڈ کی گئیں، جس سے شفافیت اور اعتماد کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔روزنامہ قوم نے ڈی جی ایم ڈی اے، راشد ارشاد کو اس حوالے سے آگاہ کیا، جس کے بعد انہوں نے فوری احکامات جاری کرتے ہوئے تمام کارروائیوں کو اپ لوڈ کرنے کا حکم دیا۔ مگر بدقسمتی سے، نچلے عملے نے ڈی جی کے احکامات کو نظر انداز کیا اور تاحال کارروائیاں سوشل ویب سائٹس پر اپ لوڈ نہیں ہو سکیں۔ذرائع کے مطابق نئے ڈی جی کے احکامات پر نچلا عملہ سنجیدگی نہیں دکھا رہا، جس سے شفافیت اور عوامی اعتماد کے مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔ شہری اور عوامی حلقے اس غیر ذمہ دارانہ رویے پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔







