ایرانی فورسز نے بلوچستان کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان میں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے تھے۔ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں جیش العدل نامی تنظیم کے دو ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔پاکستان نے ایرانی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستانی فضائی حدود کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور تہران کو خبردار بھی کیا ہے کہ اس طرح کی خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں ۔اس معاملے پر چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ایران اور پاکستان سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی گئی ہے۔چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فریقین سے کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کا مطالبہ کرتے ہیں، امن و استحکام کو برقرار رکھنے کیلئے دونوں ملک مل کر کام کریں۔ادھر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان خصوصاً بلوچستان میں دشمن قوتیں بیرونی مداخلت کی کوشش کررہی ہیں لیکن دشمن کبھی اپنی سازشوں میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ہم ہر جگہ دشمن قوتوں کا بھر پور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دفترخارجہ کہہ چکا ہےدہشتگردی خطےکے ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے۔ دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کےلیے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔ ہم سیاسی کارکن ہیں اورہر قسم کی دہشتگردی کےخلاف ہیں۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات،اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے۔ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے حکومت اور سکیورٹی ادارے پوری طرح تیار ہیں۔







