ایران کی سب سے بڑی توانائی تنصیب پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں تہران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کے اہم صنعتی مرکز حیفہ میں واقع آئل ریفائنری کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے بھی اس حملے کی تصدیق کر دی ہے اور بتایا ہے کہ حیفہ میں موجود ریفائنری پر ایرانی میزائل گرے، جس کے نتیجے میں شہر کے بعض حصوں میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہو گئی۔
اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن کا کہنا ہے کہ حملے سے محدود نوعیت کا نقصان ہوا ہے اور صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ زیادہ تر متاثرہ علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق کسی بڑے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب ایران نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے توانائی منصوبوں کو نشانہ بنانے کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے، اور خطے میں اس کی جانب سے میزائل اور ڈرون کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر مزید حملے کیے گئے تو تہران “زیرو ریسٹرینٹ” پالیسی کے تحت سخت ترین ردعمل دے گا۔







