ایران کا امریکا کو سخت پیغام، لبنان کو جنگ بندی معاہدے کا لازمی حصہ قرار دینے کا مطالبہ

تہران: ایران نے امریکا کے ساتھ مجوزہ مذاکرات سے قبل واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کو کسی بھی صورت جنگ بندی معاہدے سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور اسے اس معاہدے کا بنیادی اور لازمی حصہ تسلیم کرنا ہوگا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں بغیر کسی ملک کا نام لیے امریکا کو تنبیہ کی کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اتحادی، بالخصوص لبنان اور دیگر مزاحمتی گروہ، اس جنگ بندی کے بنیادی فریق ہیں اور انہیں نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجاویز کا پہلا اور انتہائی اہم نکتہ ہے۔ قالیباف کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی لبنان کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کر چکے ہیں، اس لیے اس معاملے کو نظرانداز کرنے یا اس سے پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
ایرانی اسپیکر نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا سخت اور بھرپور جواب دیا جائے گا اور اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ لبنان ایران کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کی ابتدائی 10 نکاتی تجاویز مسترد کر دی ہیں جبکہ نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان کے درمیان مشاورت جاری ہے، تاہم تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔
ماہرین کے مطابق لبنان کے معاملے پر بڑھتا ہوا اختلاف خطے میں امن عمل کے لیے سنگین رکاوٹ بن سکتا ہے اور صورتحال مزید پیچیدہ رخ اختیار کر سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں