تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف اپنایا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کے مزید اہداف موجود ہیں جنہیں یا تو کسی معاہدے کے ذریعے یا ضرورت پڑنے پر جنگ کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ موجودہ جنگ بندی میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ شامل نہیں ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ فوج مکمل الرٹ پر ہے اور کسی بھی خطرے یا فیصلے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ چاہے سفارتی معاہدہ ہو یا فوجی اقدام، اسرائیل ایران کے افزودہ یورینیم پروگرام کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
نیتن یاہو نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ موجودہ جنگ بندی اسرائیل کے مکمل تعاون سے طے پائی ہے، لیکن اسے تنازع کے اختتام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایک عارضی مرحلہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور عالمی سطح پر جاری امن کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔







