ایران جنگ نے ٹرمپ کو پھنسا دیا، سابق امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کا انکشاف

واشنگٹن: امریکا کے سابق سیکرٹری دفاع اور سابق سی آئی اے ڈائریکٹر لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ موجودہ تنازع کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک انتہائی پیچیدہ صورتحال میں پھنس گئے ہیں، جہاں ان کے پاس واضح اور مؤثر حکمت عملی موجود نہیں۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں پنیٹا نے ٹرمپ کی جنگی منصوبہ بندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹھوس تجزیے کے بجائے قیاس آرائی اور غیر حقیقی توقعات پر انحصار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ کو یہ غلط فہمی ہے کہ ان کے بیانات خود بخود حقیقت بن جائیں گے، جو کہ غیر سنجیدہ رویہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانا ایک سنگین حکمت عملی کی غلطی تھی، کیونکہ اس سے عوامی بغاوت نہیں بلکہ سخت مؤقف رکھنے والی قیادت سامنے آئی، جس سے تنازع مزید پیچیدہ ہوا ہے۔
لیون پنیٹا نے یہ بھی کہا کہ امریکی انتظامیہ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند ہونے کے ممکنہ خطرات کے لیے پیشگی تیاری نہیں کی، حالانکہ یہ معاملہ ماضی میں قومی سلامتی کے اجلاسوں میں زیر بحث آ چکا ہے اور اس کے عالمی تیل کی مارکیٹ پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں امریکا کے پاس محدود اختیارات ہیں۔ ایک طرف ایران آبنائے ہرمز پر دباؤ ڈال رہا ہے جس سے جنگ بندی مشکل ہو گئی ہے، جبکہ اگر امریکا ایرانی دفاعی نظام کو نشانہ بناتا ہے تو جنگ میں شدت اور جانی نقصان کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
سابق سیکرٹری دفاع نے موجودہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ایک خودمختار عہدے دار کے بجائے صرف صدر کے حمایتی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
پنیٹا نے الزام لگایا کہ امریکی انتظامیہ جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کی منتقلی کو تشہیری اور فنڈ ریزنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے، جو کہ غیر مہذب عمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر امریکی حملے پر معافی نہ مانگنا امریکا کی عالمی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے اور اس سے منفی تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں