ایرانی تیل سمگلنگ،ذمہ داروں کی فہرست ابتدائی تحقیقات میں جھوٹ کا پلندہ ثابت

ایرانی تیل سمگلنگ،ذمہ داروں کی فہرست ابتدائی تحقیقات میں جھوٹ کا پلندہ ثابت

اوگرا ٹیم نےبغیر تصدیق کارروائی شرع کی تو بوگس لسٹ میں شامل رحیم یار خان‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ گوجرہ اور فیصل آباد کے پٹرول پمپس کا پیمانہ درست ثابت

ایم پی اے آصف مجیدکے تینوں پٹرول پمپوں پر پٹرول ،ڈیزل کا معیاربہترین نکلا، مافیا نے حکومت، وزارت پٹرولیم کی توجہ تقسیم کرنےکیلئے کھیل رچایا

ملتان ( سٹاف رپورٹر ) ایرانی تیل کی سمگلنگ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ملک بھر میں منظم طریقے سے چلائی جانے والی مہم اور بغیر کسی ذمہ دار آفیسر کے دستخطوں کے تیار کی جانے والی فہرست ابتدائی تحقیقات میں جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئی اور ذرائع کے مطابق ایرانی تیل کی سمگلنگ کرنے والے ایک مافیا نے حکومت اور وزارت پٹرولیم کی توجہ تقسیم کرنے کے لئے یہ کھیل رچایا۔ وزارت پٹرولیم کی ہدایت پر اوگرا کی ٹیم نے مذکورہ لسٹ کے مطابق بغیر تصدیق کئے کارروائی شرع کی تو رحیم یار خان‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ گوجرہ اور فیصل آباد کے مذکورہ بوگس لسٹ میں شامل تمام پٹرول پمپ صاف ستھرے پائے گئے اور ان کا پیمانہ بھی درست ثابت ہوا۔ ذرائع کے مطابق یہ فہرست پاکستان سے باہر کسی اور ملک میں تیار کی گئی اور اس منظم انداز میں اسے وائرل کیا گیا کہ متعلقہ اداروں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ فوری کارروائی کریں۔ اوگرا کی ٹیم نے گذشتہ روز رحیم یار خان سے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری آصف مجید کو بھی ایرانی تیل کی سمگلنگ میں ملوث ظاہر کیا گیا تھا جس پر اوگرا کی سپیشل ٹاسک فورس نے گذشتہ روز ان کے تینوں پٹرول پمپوں پر چھاپہ مارا تو حیران کن طور پر پٹرول بہترین کوالٹی کا ثابت ہوا اور اس کا معیار 92رون تھا۔ یاد رہے کہ رون وہ پیمانہ ہے جو پٹرول کی کوالٹی چیک کرتا ہے جبکہ ڈیزل بھی 54 اون کا ثابت ہوا اور معیار بھی درست نکلا۔ تینوں پٹرول پمپوں کے سابقہ ریکارڈ بھی چیک کئے گئے۔ اس سے قبل سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی ایرانی تیل کے سمگلروں کی فہرست میں فیصل آباد‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ او گوجرہ کے جن پٹرول پمپ مالکان کا ذکر تھا وہ بھی بے گناہ ثابت ہوئے اور ان کا بھی پیمانہ پورا ہونے کے ساتھ ساتھ پٹرول اور ڈیزل کا معیار بھی اوگرا سٹینڈر کے مطابق تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں