ایاز سہو کیس: سرکاری ملازمین، بااثر افراد کی بھی فحش ویڈیوز، سہولتکاری سے تحقیقات متاثر

ملتان (سٹاف رپورٹر) تلمبہ فحش ویڈیو سکینڈل میں شامل گھنائونے کردار کے مرکزی ملزم ایاز سہو کو پولیس کی طرف سے ہر طرح کی مدد ملنے اور مقدمے میں سہولت کاری دینے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔مصدقہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دوران تفتیش ملزم سے ایسی ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں جن میں محکمہ صحت عملے کے اہلکاروں اور بعض پولیس ملازمین کی ویڈیوز بھی شامل تھیں جبکہ تین ایسی ویڈیوز بھی موجود تھیں جو شہر کے با اثر افراد کی تھیں اور وہ تمام کی تمام ایاز سہو کے ہسپتال کی آڑ میں بنائے گئے بدکاری کے اڈے میں تیار کی گئی تھیں۔ پولیس والوں کی ویڈیوز کا پتہ چلنے کے بعد تلمبہ پولیس کی تفتیش میں نرمی آتی گئی اور اسی دوران رانا صغیر منج نامی سود خور اور شہر میں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والا عامر سہو بھی ایاز سہو کو بچانے کے لیے سرگرم ہو گیا۔ عامر سہو جو کہ ویڈیو سکینڈل کے مرکزی ملزم ایاز سہو کی گرفتاری کے بعد فرار ہو کر اسلام آباد میں چھپاہواتھا، واپس شہر میں آگیاہے اور خانیوال کے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اسی وجہ سے اس ہسپتال کو بند نہیں کر سکے اور اس کے خلاف کارروائی میں ٹال مٹول سے کام لیتے رہے کہ محکمہ صحت کے بعض اہلکاروں کی ویڈیوز بھی ایاز سہو کے پاس موجود تھیں جو اسی کے ہسپتال میں خفیہ کیمروں سے بنائی گئی تھیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں