اکیاون سالہ پرانی کھاد فیکٹری کا زہریلا دھواں، حکومتی خاموشی نے ملتانیوں کو موت کے سپرد کر دیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) 51 سال پرانی ٹیکنالوجی کی حامل پاک عرب فرٹیلائزرز ملتان عرف کھاد فیکٹری کا شہری حدود میں وقت کے ساتھ شامل ہونے پر حکومتی خاموشی اور پردہ پوشی کیوں ہے؟ جب وقت کے ساتھ ساتھ جانوروں کے بھانے شہر سے باہر منتقل کیےجا سکتے ہیں تو فضاء کو بھانوں کی نسبت ہزاروں گنا زیادہ شدید ترین آلودگی کا شکار کرنے سمیت ملتان کا پانی آلودہ کرنے والی کھاد فیکٹری پر حکومت اتنی خاموش کیوں ہے۔ اتنے بوسیدہ پلانٹ کے باوجود ماحولیات کے ادارے، EPA اور محکمہ انڈسٹریز کی خاموشی سب سے بڑا سوال ہے۔ جب عالمی معیار CO₂ اخراج پر سخت پابندی لگاتا ہے تو حکومت نے آخری بار اس پلانٹ کا آلودگی آڈٹ کب کیا؟ اگر ایسی فیکٹری کے گرد و نواح میں شہری آبادی آ چکی ہے تو ریلوکیشن یا اپ گریڈیشن کی حکمت عملی کیوں نہیں بنائی گئی؟ یہ فیکٹری ہر گھنٹے تقریباً 25 میٹرک ٹن CO₂ خارج کر رہی ہے اور اتنی بڑی مقدار گرین ہاؤس گیسوں کو جنم دے رہی ہے جو نہ صرف غیر معمولی حد تک زیادہ ہے بلکہ یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ پاکستان کی فضائی کوالٹی ڈیٹا میں اس کا اثر کیوں نظر نہیں آ رہا؟ کیا یہ اخراج سرکاری ریکارڈ میں کم دکھایا جاتا ہے؟ اگر پلانٹ چھوٹا ہے مگر اخراج زیادہ، تو یہ ماحولیاتی خطرے کی کلاس A کیٹیگری میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟سرکاری کنٹرول میں اخراج پر نظر رکھی جاتی تھی جبکہ نجکاری کے بعد صورتحال بگڑی — یہ پاکستان میں ریگولیٹری کیپچر کا ایک اور ثبوت ہے۔ نجی انتظامیہ کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی، نہ ہی کوئی تھرڈ پارٹی آڈٹ رپورٹ عوام کے سامنے لائی جاتی ہے۔اگر ایک طرف فیکٹری مقامی ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہے اور دوسری طرف دوسرے ممالک سے کاربن ٹریڈنگ کے نام پر بھاری رقوم بھی لے رہی ہے تو یہ ایک اخلاقی اور قانونی سوال ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی ادارہ موجود ہے جو اس طرح کے کاربن ٹریڈ معاہدوں کا ریکارڈ رکھے؟ کیا اس فیکٹری کے اخراج کو واقعی کم کیا جاتا ہے یا صرف کاغذی طور پر اعداد و شمار دکھا کر اربوں روپے لیے جاتے ہیں؟ یہ بھی ممکن ہے کہ دیگر اداروں کو دکھانے کے لیے اخراج کم، اور اصل میں زیادہ ہو۔25 ٹن فی گھنٹہ CO₂ کے علاوہ دیگر گیسوں (NO₂ وغیرہ) کے اخراج کا بھی ذکر ہے، تو پھر شہرِ ملتان کے مکینوں میں سانس، الرجی اور آنکھوں کی بیماریوں کے اعداد و شمار کیوں جاری نہیں کیے جا رہے؟ کیا کسی ہسپتال یا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے فیکٹری سے کی وجہ سے صحت پر پڑنے والے منفی اثرات پر تحقیق کی ہے؟ اگر نہیں، تو یہ ایک سنگین غفلت ہے۔ قوانین کتابوں کی حد تک” موجود ہیں۔ اگر قانون موجود ہے مگر عمل نہیں ہو رہا تو پھر ذمہ دار کون ہے؟ کیا ماحولیاتی انسپکٹرز کے دورے ہوتے بھی ہیں یا صرف کاغذی طور پر خانہ پری پری کی جاتی ہے؟ ایسی فیکٹریوں سے متعلق سالانہ EIA (Environmental Impact Assessment) لازمی ہوتا ہے مگر کیا یہ رپورٹ عوام کے لیے اوپن ہے؟ اور شہریوں کو اپنے قریب صنعتی اخراج کے بارے میں باخبر کیوں نہیں رکھا جاتا؟ فیکٹری کے خلاف عوامی سماعت (public hearing) کیوں نہیں کروائی گئی؟

شیئر کریں

:مزید خبریں