بہاول پور (کرائم سیل) اوچ شریف میں سود خور مافیا کا راج، قانون مفلوج، پولیس اور ریونیو کی مبینہ ملی بھگت سے کاروباری ساکھ تباہ ، تاجر کا مستقبل داؤ پر لگ گیا رجسٹری شدہ دکان سیل کرنے ،تاجر کا کاروبار تباہ کرنے کی مبینہ سازش نے پولیس و ریونیو پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے عوامی سماجی اور کاروباری حلقوں کا ڈپٹی کمشنر بہاول پور اور ڈی پی او بہاول پور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق اوچ شریف میں بااثر سود خور مافیا کے مبینہ اثر و رسوخ نے قانون، انصاف اور انتظامیہ کی غیرجانبداری پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں ۔شہر کے معروف کاروباری مرکز میں پاکستان موبائل ٹو کے نام سے برسوں سے چلنے والا تاجر مجاہد حسین گبول کا کاروبار محض ایک درخواست پر بند کر دیا گیا، جبکہ تمام قانونی و دستاویزی ثبوت اس کے برعکس موجود تھے ۔ذرائع کے مطابق اوچ شریف کے بدنامِ زمانہ سود خور گروہ نے پولیس کو درخواست دی کہ مجاہد حسین گبول نے ان کی مبینہ ملکیتی دکان کرائے پر لے کر قبضہ جما لیا ہے۔ اس درخواست پر ڈی ایس پی احمد پور شرقیہ نے نہ صرف فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک ماہ قبل دکان کو تالے لگوا دیے بلکہ کسی عدالتی حکم یا حتمی ریونیو فیصلے کے بغیر ایک فعال کاروبار کو سیل کر دیا گیا حیران کن امر یہ ہے کہ کٹھ کے دوران خود ڈی ایس پی احمد پور شرقیہ نے یہ فیصلہ صادر کیا کہ دکان کی ملکیت کے تعین کے لیے محکمہ مال سے رپورٹ طلب کی جائے اور اسی رپورٹ کی روشنی میں دکان اصل مالک کے حوالے کی جائے گی۔ تاہم جب اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ، ریونیو افسران اور فیلڈ اسٹاف کی جانب سے آنے والی تفصیلی رپورٹ سود خور مافیا کے مؤقف کے مطابق نہ آئی تو معاملہ نمٹانے کے بجائے اسے مزید الجھانے کی کوششیں شروع کر دی گئیں تحقیق میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ ریونیو رپورٹ حسبِ منشا نہ ملنے پر دوبارہ رپورٹ کے نام پر بعض ریونیو افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ایک نئی فرضی اور جعلی رپورٹ تیار کروانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ بے نقاب ہونے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی دستاویزات کے باوجود تالے برقرار متاثرہ تاجر کی جانب سے پیش کی گئی رجسٹری، کرایہ داری اور دیگر قانونی دستاویزات دیکھنے کے باوجود دکان کھولنے کی اجازت نہ دی گئی، جس کے باعث مجاہد حسین گبول کا لاکھوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ اس کی کاروباری ساکھ بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ شہر بھر میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے بجائے بااثر سود خور مافیا کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے یہ واقعہ محض ایک دکان کا نہیں بلکہ اوچ شریف میں قانون کی عملداری، پولیس کے اختیارات کے غلط استعمال اور ریونیو نظام کی شفافیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک رجسٹری شدہ اور چلتے ہوئے کاروبار کو محض ایک درخواست پر بند کیا جا سکتا ہے تو عام شہری کے تحفظ کی ضمانت کہاں ہے شہری و تاجر حلقوں نے ڈپٹی کمشنر بہاول پور اور ڈی پی او بہاول پور سے فوری نوٹس لینے، معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروانے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔







