اوکاڑہ یونیورسٹی: نیا سکینڈل، حاضرسروس جونیئرٹیچر کا وزٹنگ تقررو انتظامی اختیارات

ملتان (سٹاف رپورٹر) صوبائی جامعات اور سرکاری محکموں کے مابین علمی تعاون بلاشبہ خوش آئند ہےمگر جب یہی تعاون ضابطوں کی دھند میں لپٹ جائے تو سوالات کا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں ایک سرکاری محکمے سے وابستہ جونیئر سپیشل ایجوکیشن ٹیچر کو نہ صرف بطور وزٹنگ فیکلٹی تعینات کیا گیا بلکہ بعض تعلیمی پروگراموں میں کلیدی انتظامی ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو معاملہ محض ایک تقرری کا نہیں بلکہ قواعد و ضوابط کی ممکنہ خلاف ورزی کا بن جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ ٹیچر کا تعلق سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے ہے اور وہ ضلع قصور کی تحصیل پتوکی میں سرکاری سپیشل ایجوکیشن سنٹر میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ایک حاضر سروس سرکاری ملازمہ کو جامعہ میں اضافی تدریسی و انتظامی ذمہ داریاں سونپنے سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟ ماہرین قانون کے مطابق Punjab Government Servants Conduct Rules, 1966 کے تحت کسی بھی سرکاری ملازم کو اضافی ملازمت، تدریسی سرگرمی یا اعزازیہ سے منسلک ذمہ داری قبول کرنے سے پہلے اپنے اصل محکمے سے پیشگی این او سی لینا لازمی ہے۔ یہ شرط محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ مفادات کے ٹکراؤ، وقت کی تقسیم اور مالی شفافیت کو یقینی بنانے کا بنیادی ستون ہے۔ اگر جامعہ میں پروگرام کوآرڈینیشن، ایم فل سطح کی نگرانی یا’’آل اِن آل‘‘اختیارات دیئے گئے ہوں تو قانونی تقاضوں کی سختی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اہم سوالات یہ ہیں۔ کیا پیشگی این او سی حاصل کی گئی؟ کیا جامعہ نے متعلقہ محکمے سے باضابطہ منظوری طلب کی؟ کیا کسی اعزازیہ یا مالی معاوضے کی تفصیل قواعد کے مطابق ظاہر کی گئی؟ اور کیا اضافی ذمہ داریاں اصل سرکاری فرائض پر اثرانداز نہیں ہو رہیں؟ یاد رہے کہ جامعات کی خودمختاری قانون سے بالاتر نہیںاور سرکاری ملازمین کی علمی خدمات بھی قواعد کی پابندی سے مشروط ہیں۔ اگر تقرری اور ذمہ داریاں مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دی گئی ہیں تو جامعہ اور متعلقہ محکمہ بآسانی دستاویزی ثبوت پیش کر کے ابہام دور کر سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر یہ معاملہ ادارہ جاتی احتساب کا متقاضی بن سکتا ہے۔ تعلیمی نظام کی بنیاد اعتماد اور شفافیت پر قائم ہے۔ متعلقہ حکام سے توقع ہے کہ وہ فوری وضاحت جاری کریں یا غیر جانبدارانہ انکوائری کے ذریعے حقائق سامنے لائیں تاکہ نہ صرف ابہام ختم ہو بلکہ صوبائی جامعات اور سرکاری اداروں کی ساکھ بھی محفوظ رہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں