ملتان (سٹاف رپورٹر) اوکاڑہ یونیورسٹی کا تعلیمی بحران اب محض فیکلٹی کی کمی یا وقتی انتظامی ناکامی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ بحران ایک ایسی ہمہ گیر بدانتظامی میں بدل چکا ہے جہاں تعلیمی معیار، انسانی وقار اور طلبہ کے مستقبل تینوں کو یکساں طور پر پامال کیا جا رہا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 18 ستمبر 2024 کو جاری ہونے والا خط نمبر 15(59)/HEC/A&A/2017/1005 اس حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت بن کر سامنے آیا ہے کہ یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں حالات اس نہج تک بگڑ چکے ہیں کہ امتحانات جیسے حساس اور بنیادی مرحلے میں بھی طلبہ کو انسانی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ HEC کے ڈپٹی ڈائریکٹر (اکریڈیٹیشن) کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کمیشن کو باقاعدہ شکایات موصول ہوئیں جن کے مطابق امتحانات کے دوران طلبہ کو کلاس رومز اور لیکچر ہالز تک محدود رکھنے کے بجائے راہداریوں، باغات اور حتیٰ کہ پارکنگ ایریاز میں فرش پر بٹھا کر امتحان لیا گیا۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق یہ عمل صرف انتظامی بدنظمی نہیں بلکہ ایک قومی جامعہ میں علم کے وقار کی بدترین توہین ہےجو اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ ادارہ کس حد تک زوال پذیر ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کو واضح اور دوٹوک ہدایات جاری کیں کہ آئندہ اس نوعیت کے غیر انسانی اور ہتک آمیز اقدامات سے مکمل اجتناب کیا جائے اور امتحانات کے دوران تمام طلبہ کے لیے مناسب نشستوں اور بنیادی سہولیات کا بندوبست فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔ تاہم ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جو انتظامیہ امتحانی ہال میں کرسی فراہم کرنے میں ناکام ہو وہ تعلیمی معیار کی بہتری کے دعوے کس بنیاد پر کر رہی ہے؟ تعلیمی ماہرین کے مطابق HEC کا یہ خط دراصل اوکاڑہ یونیورسٹی کی مجموعی بدحالی کی ایک اور تشویشناک تصویر ہے۔ ایک طرف یونیورسٹی شدید فیکلٹی بحران کا شکار ہے اور دوسری طرف اس کا انفراسٹرکچر اس قابل بھی نہیں رہا کہ طلبہ کو باعزت ماحول فراہم کر سکے۔ یاد رہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے یونیورسٹی آف اوکاڑہ کو 30 ستمبر 2025 تک دیا گیا مشروط این او سی کسی صورت اعتماد کا اظہار نہیں بلکہ ایک آخری وارننگ کے مترادف ہے۔ تعلیمی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو یہ این او سی کسی بھی وقت منسوخ ہو سکتا ہے، جس کے نتائج براہِ راست ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس نہایت حساس اور شرمناک معاملے پر بھی حسبِ روایت خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین جن پر پہلے ہی انتظامی نااہلی اور ہراسمنٹ جیسے سنگین الزامات زیرِ بحث ہیں، اس معاملے میں بھی کوئی واضح مؤقف دینے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایک ایسا وائس چانسلر جو مسلسل HEC وارننگز، تعلیمی معیار کی پامالی اور طلبہ کی تذلیل کے باوجود اپنے عہدے سے چمٹا ہوا ہو، وہ ادارے کو تباہی سے بچانے کے بجائے بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ ادھر تعلیمی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر جامع اصلاحات، شفاف انتظامی احتساب، فیکلٹی کی ہنگامی بنیادوں پر تقرری اور ادارے کی قیادت میں سنجیدہ تبدیلی نہ کی گئی تو اوکاڑہ یونیورسٹی محض ایک ناکام جامعہ کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی ایک عبرتناک مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی، جہاں این او سی کے سائے میں تعلیم کے نام پر طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جاتا رہا۔







