تازہ ترین

اوکاڑہ یونیورسٹی میں نیا سکینڈل، وی سی نے جےایس بینک کو داخلہ دیدیا، قوائد پامال

ملتان (سٹاف رپورٹر) اوکاڑہ یونیورسٹی میں ایک اور سنگین انتظامی سکینڈل منظرِ عام پر آ گیا ہے جس نے پبلک سیکٹر جامعات میں شفافیت، قانون کی بالادستی اور میرٹ کے دعوؤں کو بری طرح مشکوک بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین میو نے قواعد و ضوابط کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ایک نجی بینک جے ایس بینک کو ذاتی صوابدید پر یونیورسٹی کیمپس میں برانچ قائم کرنے کی اجازت دے دی حالانکہ پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں کسی بھی بینک کو اس نوعیت کی سہولت دینا ایک واضح اور باقاعدہ قانونی طریقہ کار کا تقاضا کرتا ہے۔ قواعد کے مطابق یونیورسٹی میں بینک برانچ کے قیام کے لیے سب سے پہلے اخباری اشتہار کے ذریعے تمام بینکوں سے اظہارِ دلچسپی طلب کی جاتی ہے، پھر موصول ہونے والی درخواستوں کا مالی، انتظامی اور تکنیکی بنیادوں پر جائزہ لیا جاتا ہےاور آخرکار وہ بینک منتخب کیا جاتا ہے جو یونیورسٹی کو زیادہ رینٹ اور بہتر شرائط فراہم کرنے کی پیشکش کرے۔ تاہم اوکاڑہ یونیورسٹی میں یہ تمام مراحل مشکوک طور پر نظرانداز کر دیئے گئے اور وائس چانسلر نے مبینہ طور پر اپنی مرضی سے جے ایس بینک کو نواز دیا۔ دستاویزات اور یونیورسٹی کے اپنے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق جے ایس بینک کے اعلیٰ سطحی وفد نے حال ہی میں اوکاڑہ یونیورسٹی کا دورہ کیا، جس میں قاضی رضا (گروپ ہیڈ)، عمران بھامنی (کنٹری ہیڈ)، جمیل میمن (ہیڈ آف ایڈمن)، مجید قریشی (ریجنل ہیڈ) اور آمنہ عمر (جنرل منیجر) شامل تھے۔ وفد نے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین اور یونیورسٹی کی ٹریژری ٹیم سے ملاقات کی جس کا مقصد یونیورسٹی میں جے ایس بینک برانچ کے قیام کو حتمی شکل دینا تھا جو کہ پہلے ہی ایک متنازعہ ایم او یو کے تحت طے پا چکا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں وائس چانسلر نے بینک حکام سے فیس کلیکشن، طلبہ و عملے کے لیے قرضہ جات اور جدید بینکاری سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دیں جبکہ دورے کے اختتام پر بینک حکام کو شیلڈز آف آنر بھی پیش کی گئیں۔ ناقدین کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا اور قانونی تقاضے محض رسمی طور پر بھی پورے نہیں کیے گئے۔ ماہرین تعلیم اور گورننس ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے یکطرفہ فیصلے نہ صرف سرکاری خزانے کو ممکنہ مالی نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ دیگر بینکوں کے لیے غیر مساوی اور امتیازی سلوک کی مثال بھی قائم کرتے ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اس ایم او یو سے یونیورسٹی کو وہ مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہے جو اوپن بڈنگ کے ذریعے ممکن تھایا پھر یہ فیصلہ مخصوص مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔ تعلیمی حلقوں نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر متعلقہ نگرانی کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اوکاڑہ یونیورسٹی میں جے ایس بینک کو دی گئی اس غیر قانونی اجازت کی فوری تحقیقات کی جائیں، ایم او یو کو معطل کیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بصورتِ دیگر یہ سکینڈل پبلک سیکٹر جامعات میں ادارہ جاتی بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی ایک اور خطرناک مثال بن کر رہ جائے گا۔ اس بارے میں جب اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین میو کے پرسنل سیکرٹری اور پی آر او شرجیل احمد کو بذریعہ واٹس ایپ خبر بھیج کر موقف لیا گیا تو ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں